اللہ اکبر
Urdu book, p. 307
By Maulana Wahiduddin Khan
اور بے اختیار پکار اٹھتا ہے ” کنواں کنواں “۔ مگر کیسی عجیب بات ہے کہ ساری انسانیت اس سے بھی زیادہ خطر ناک ” کنویں “ کے کنارے کھڑی ہوئی ہے۔ مگر ہر آدمی دوسرے دوسرے کاموں میں لگا ہوا ہے۔ کوئی شخص ” کنواں کنواں “ پکارنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔ حتی کہ اگر کوئی دیوانہ اس قسم کی پکار بلند کرے تو لوگوں کی طرف سے جواب ملتا ہے۔ ” یہ شخص قوم کو بزدلی کی نیند سلانا چاہتا ہے، وہ جہاد کے جذبہ کو ختم کر رہا ہے، وہ حقیقی مسائل سے لوگوں کو ہٹا دینا چاہتا ہے، وہ زندگی کا پیغام بر نہیں بلکہ موت کا داعی ہے۔ وہ مایوسی اور بے ہمتی کا سبق دے رہا ہے۔“ لوگ کنویں کے کنارے کھڑے ہوئے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ محفوظ مکان میں ہیں۔ لوگ موت کی طرف بڑھ رہے ہیں مگر خوش ہیں کہ وہ زندگی کا سفر طے کر رہے ہیں۔ موت سے قریب ہمارا اصل مسئلہ کیا ہے۔ ہمارا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم انسانوں کے درمیان اپنی جگہ بنانے میں لگے ہوئے ہیں۔ حالاں کہ عنقریب ہم خدا سے دوچار ہونے والے ہیں۔ ہم دنیا میں عزت اور کامیابی ڈھونڈ رہے ہیں۔ حالاں کہ بہت جلد ہم آخرت میں داخل ہونے والے ہیں۔ ہم میں سے ہر شخص زندگی کے مقابلہ میں موت سے زیادہ قریب ہے مگر ہر شخص زندگی کے مسائل میں الجھا ہوا ہے، موت کے مسائل کے لیے فکر مند ہونے کی ضرورت کوئی محسوس نہیں کرتا۔ وہ اسلام جس نے اصحاب رسول کو سراسیمہ بنا دیا تھا وہ اسلام آج لوگوں کو صرف قناعت اور بے فکری کا تحفہ دے رہا ہے۔ ایسا کیوں ہے۔ قرآن کے الفاظ میں اس کی وجہ تزئین ( فاطر، 8: 35) ہے۔ ہر آدمی کو کچھ ایسے الفاظ مل گئے ہیں جن سے وہ اپنی غیر اسلامیت کی خوبصورت اسلامی توجیہہ کر سکے۔ ہر آدمی نے اپنے گرد خوش خیالیوں کا ایک گھر وندا بنا لیا ہے اور اس کے اندر وہ جی رہا ہے۔ اس کو یہ احساس نہیں کہ موت کا دھماکہ اچانک اس کے گھروندے کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader