موت سے قریب
Urdu book, p. 308
By Maulana Wahiduddin Khan
توڑ دے گا اور اس کے بعد اس کے پاس ایک تنکا بھی نہ ہوگا جس سے وہ خدا کے غضب کے مقابلہ میں اپنا بچاؤ کر سکے۔ ایک قائد ملت ایک مسلمان کے اوپر ظلم کرتا ہے مگر اس کو اپنے ظالم ہونے کا احساس نہیں ہوتا۔ کیوں کہ وہ جلسوں میں اور اخبارات کے صفحات میں اپنے کو اسلام کا چیمپئن بنا ہوا دیکھتا ہے۔ اس کے لیے نا قابلِ قیاس ہو جاتا ہے کہ ایک شخص جو دنیا میں ناخدائے ملت بنا ہوا دکھائی دے رہا ہو وہ آخرت میں ظالم ملت کی حیثیت سے اٹھایا جائے۔ ایک لیڈر مسلمانوں کے درمیان ایسی سیاست چلاتا ہے جس سے مسلمان دو گروہوں میں بٹ کر ایک دوسرے کا خون بہاتے ہیں۔ ملک کی دینی اور تعمیری سرگرمیاں تہس نہس ہو جاتی ہیں۔ دنیا کی نظر میں اسلام کی یہ تصویر قائم ہوتی ہے کہ اسلام وحشیوں کا مذہب ہے جو آپس میں لڑائی جھگڑے کے سوا اور کچھ نہیں سکھاتا۔ اس کے باوجود لیڈر کی راتوں کی نیند نہیں اچٹتی۔ اس کا دن کا سکون غارت نہیں ہوتا۔ کیوں کہ وہ دیکھتا ہے کہ اپنی زبان و قلم کے ذریعہ اس نے جو اشاعتی کارنامے انجام دیے ہیں وہ اس کو لاکھوں معتقدین کے درمیان نجات دہندہ اسلام بنائے ہوئے ہیں۔ اپنی علمی اور تقریری خدمات کی بدولت وہ ایک اسلامی ہیرو کی سی زندگی گزار رہا ہے۔ ایسی حالت میں اس کے لیے نا قابلِ فہم بن جاتا ہے کہ خدا کے یہاں اس کو بے قیمت قرار دے دیا جائے، دنیا میں اعزازات پانے والا آخرت میں صرف محرومی کی خندق میں ڈال دیا جائے۔ اسی طرح ایک شخص وعدہ خلافی کرتا ہے، اپنے پڑوسی کو سستاتا ہے۔ اپنے رشتہ داروں کے حقوق ادا نہیں کرتا۔ لین دین میں اس کے معاملات لوگوں سے صاف نہیں ہیں۔ اس کے باوجود سمجھتا ہے کہ جنت اس کے لیے ضرور ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ دیکھتا ہے کہ میں نماز روزہ کا اہتمام کر رہا ہوں۔ حج کی سعادت بھی میں نے حاصل کرلی ہے۔ مسجد اور مدرسہ کے چندہ دہندگان میں بھی میرا نام چھپا ہوا ہے۔ اس کی سمجھ میں نہیں آتا کہ ایسے ایک دین دار آدمی کا بھی یہ انجام ہو سکتا ہے کہ آخرت میں وہ بے دین قرار دے کر خدا کی رحمتوں سے دور پھینک دیا جائے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader