قبر نہیں دروازہ
Urdu book, p. 309
By Maulana Wahiduddin Khan
قبر نہیں دروازہ "حافظ جی کے لڑکے کا انتقال ہوگیا ہے۔ جنازہ کی نماز تیار ہے۔ میں آپ کو بلانے کے لیے آیا ہوں۔" سنتے ہی میں نے کتاب بند کی اور وضو کرکے ان کے ساتھ روانہ ہوگیا۔ قبرستان پہنچا تو وہاں میرے سوا تھوڑے سے آدمی اور کھڑے تھے۔ گنا تو چھوٹے بڑے سترہ آدمی تھے جن میں میت کے گھر کے افراد بھی شامل تھے۔ مجھے ایک مہینہ پہلے کی بات یاد آئی جب کہ سیٹھ فضل علی کے ایک رشتہ دار کا جنازہ اسی قبرستان میں آیا تھا اور قبرستان کے خصوصی حصہ میں دفن ہوا تھا۔ اس دن آدمیوں کا اس قدر ہجوم تھا کہ شمار کرنا مشکل تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا گویا بستی کی تمام مسلم آبادی نکل آئی ہے۔ میرے پہنچنے کے چند منٹ بعد محلہ کے امام صاحب نماز جنازہ کے لیے کھڑے ہوگئے۔ میں نے بھی صف میں شامل ہو کر نیت باندھ لی مگر امام صاحب نے اتنی تیزی سے نماز پڑھائی کہ میں کوئی دعا بھی پوری نہ پڑھ سکا۔ بس جلدی جلدی چار بار اللہ اکبر کی آواز آئی اور تھوڑی دیر بعد انھوں نے سلام پھیر دیا۔ لوگ اپنے جوتے پہن کر اطمینان کے ساتھ اس طرح کھڑے ہوگئے گویا "نماز جنازہ" کے نام سے جو کام انہیں کرنا تھا اس کو انھوں نے پوری طرح انجام دے دیا ہے۔ قبر قریب ہی تھی۔ وہاں پہنچے تو معلوم ہوا کہ ابھی کھودی جارہی ہے۔ لوگ دودو چار چار کرکے ادھر ادھر کھڑے ہوگئے۔ کوئی فرقہ وارانہ مظالم کی داستان سنانے لگا۔ کسی نے موسم کی سختی کا ذکر چھیڑ دیا۔ کوئی بازار بھاؤ کے متعلق اپنی معلومات پیش کرنے لگا۔ غرض ادھر ادھر کی باتیں شروع ہوگئیں۔ میں قبر کے سامنے خاموش کھڑا تھا۔ میرے ذہن میں وہ آیتیں اور حدیثیں گھوم رہی تھیں جن میں قیامت، حشر، جنت، دوزخ وغیرہ کے حالات بتائے گئے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا تھا گویا قبر ایک کھلا ہوا دروازہ ہے جس کے سامنے کھڑے ہو کر میں دوسری دنیا کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader