Urdu book · اللہ اکبر

اللہ اکبر

Urdu book, p. 31

By Maulana Wahiduddin Khan

اور ہر ایک مسلسل اپنا کام کر رہی ہے۔ ان ’’مشینوں‘‘ پر بظاہر ان کی ساخت کا ٹھپہ نہیں لگا ہوا ہے، مگر اپنی غیر معمولی بناوٹ اور نا قابل بیان حد تک ممتاز کارکردگی کی وجہ سے وہ اپنی ساخت کا آپ اعلان ہیں۔ مخلوقات خود اپنے خالق کو بتا رہی ہیں۔ کائنات کی کسی چیز کے اوپر لفظوں میں یہ نہیں لکھا ہوا ہے کہ اس کو کس نے بنایا۔ مگر معنوی طور پر ہر ایک کے اوپر لکھا ہوا موجود ہے۔ اگر دیکھنے والی نگاہ ہو تو آدمی ہر چیز کو دیکھ کر پکار اٹھے گا: بلا شبہ یہ خدا کی بنائی ہوئی ہے۔ کوئی دوسرا اس کو بنا نہیں سکتا۔ خلائی تہذیب مغربی دنیا پچھلے 20 سال سے ایک انوکھی تحقیق میں مشغول ہے۔ یہ ہے خلا میں زندہ مخلوقات کی آواز کو سننا: Listening for life in space بظاہر اس تلاش کا محرک جدید علماء کا وہ مفروضہ ہے جس کو ارتقاء کہا جاتا ہے۔ مغربی علماء نے زندگی کی جو ارتقائی توجیہ کی ہے، اس کے مطابق لازم آتا ہے کہ وسیع خلا میں دوسرے مقامات پر بھی اسی طرح زندگی کی انواع موجود ہوں جس طرح وہ ہماری زمین پر پائی جاتی ہیں۔ خلا میں سفر کا ایک خاص مقصد ان زندگیوں سے ملاقات ہے۔ اس مفروضہ پر ان کو اتنا یقین ہے کہ اس کا ایک خاص نام بھی دے دیا گیا ہے۔ یعنی بالائے (Extraterrestrial civilisation) خلائی تہذیب اس کے علاوہ امریکا میں اور دوسرے ترقی یافتہ ملکوں میں خاص طرح کے بہت بڑے بڑے اینٹینینا (Antenna) لگائے گئے ہیں جن کو عام زبان میں ریڈیائی کان (Radio ears) کہتے ہیں۔ ان مشینوں سے بالائے خلا میں سگنل بھیجے جاتے ہیں اور حساس قسم کے آلات ہر وقت تیار رہتے ہیں کہ اوپر سے آنے والے متوقع سگنل کو سن سکیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page