اللہ اکبر
Urdu book, p. 310
By Maulana Wahiduddin Khan
مناظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں۔ میرا دل بے قرار ہو گیا۔ میری زبان سے نکلا۔ زندگی کا اصل مسئلہ وہ نہیں ہے جس میں لوگ الجھے ہوئے ہیں۔ بلکہ اصل مسئلہ وہ ہے جو موت کے بعد سامنے آنے والا ہے۔ کاش لوگوں کو معلوم ہوتا کہ وہ اس وقت کس واقعہ کے درمیان کھڑے ہوئے ہیں۔ یہ ایک شخص کی عارضی دنیا سے حقیقی دنیا کی طرف روانگی کی تقریب ہے۔ یہ قبر جو ہمارے سامنے کھودی جا رہی ہے، یہ قبر نہیں ہے بلکہ یہ ایک دروازہ ہے جو ایک شخص کو دوسری دنیا میں داخل کرنے کے لیے کھولا گیا ہے۔ جانے والا ابھی اس دروازہ میں داخل ہو کر اُس پار چلا جائے گا۔ جب بھی کوئی شخص مرتا ہے تو یہ ایک خاص وقت ہوتا ہے۔ اس وقت گویا تھوڑی دیر کے لیے اس دنیا کا دروازہ کھولا جاتا ہے جو ہماری نگاہوں سے اوجھل ہے۔ اگر دیکھنے والی آنکھ ہو تو اس کھلے ہوئے دروازہ سے دوسری دنیا کی جھلک صاف دیکھی جاسکتی ہے جہاں ہم میں سے ہر شخص کو ایک روز جانا ہے۔ مگر آج کی دنیا کے مناظر نے لوگوں کی نگاہوں کو اس قدر الجھا رکھا ہے عین دروازہ پر کھڑے ہو کر بھی انہیں اس پار کی کوئی چیز دکھائی نہیں دیتی۔ وہ حقیقت کے انتہائی قریب پہنچ کر بھی حقیقت سے بے خبر رہ جاتے ہیں۔ موت کا سبق ایک مجرم کو بتایا گیا کہ عدالت اس کے خلاف فیصلہ کر چکی ہے اور کل صبح اس کو پھانسی دے دی جائے گی۔ پھانسی اگرچہ کل کے دن ہونے والی تھی مگر آج ہی اس کا یہ حال ہوا گویا اس کو پھانسی دی جا چکی ہو۔ زندگی اس کے لیے بے قیمت ہوگئی۔ اس کا ہنسنا اور بولنا ختم ہو گیا۔ اس کے ہاتھ جو دوسروں کے خلاف اٹھتے تھے، اب اس قابل نہ رہے کہ کسی کے خلاف اٹھیں۔ اس کے پاؤں جو ہر طرف دوڑنے کے لیے آزاد تھے، اب ان میں یہ طاقت بھی نہ رہی کہ وہ کہیں بھاگنے کی کوشش کریں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader