اللہ اکبر
Urdu book, p. 311
By Maulana Wahiduddin Khan
موت بتاتی ہے کہ یہی معاملہ ہر ایک کا ہے۔ ہر آدمی جو آج زندہ نظر آتا ہے، کل کے دن اسے ”پھانسی“ کے تختہ پر لٹکنا ہے۔ مگر ہر آدمی اس سے بے خبر ہے۔ ہر ایک اپنے آج میں گم ہے، کسی کو اپنے کل کا احساس نہیں۔ یہاں ہر آدمی ”مجرم“ ہے مگر بہت کم لوگ ہیں جو اپنے مجرم ہونے کو جانتے ہوں۔ آدمی زمین پر چلتا پھرتا ہے۔ وہ دیکھتا اور سنتا ہے۔ وہ اپنے مال اور اپنے ساتھیوں کے درمیان ہوتا ہے۔ اس کے بعد ایک عجیب واقعہ پیش آتا ہے۔ اس سے پوچھے بغیر اچانک اس کی موت آجاتی ہے۔ اس کے چلتے ہوئے قدم رک جاتے ہیں۔ اس کی دیکھنے والی آنکھیں بے نور ہو جاتی ہیں۔ وہ اپنی ہر چیز سے جدا ہو کر قبر کی تنہائی میں چلا جاتا ہے۔ موت کا یہ واقعہ آدمی کی حقیقت کو بتا رہا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ آدمی اختیار سے بے اختیاری کی طرف جا رہا ہے۔ وہ اجالے سے اندھیرے کی طرف جا رہا ہے۔ وہ سب کچھ سے بے کچھ کی طرف جا رہا ہے۔ موت سے پہلے وہ اپنے آپ کو ایک ایسی دنیا میں پاتا ہے جہاں وہ اپنے ارادہ کا آپ مالک ہے۔ موت کے بعد وہ ایک ایسی دنیا میں چلا جاتا ہے جہاں وہ کسی اور کی ماتحتی قبول کرنے پر مجبور ہوگا۔ آدمی اگر اس حقیقت کو یاد رکھے تو اس کی زندگی بالکل بدل جائے۔ کسی پر قابو پا کر اسے ستانا اس کو مضحکہ خیز معلوم ہو۔ کیونکہ جو شخص خود کل دوسرے کے قابو میں جانے والا ہے وہ کسی کو ستا کر کیا پائے گا۔ اپنے کو بڑا سمجھنے پر اسے شرم آئے گی۔ کیونکہ جو بڑائی بالآخر چھن جانے والی ہو اس کی کیا حقیقت۔ زندگی کا سفر مصطفیٰ رشید شیروانی، مشہور مجاہد آزادی اور صنعت کار اور ممبر راجیہ سبھا، ٹرین کے ذریعہ الہ آباد سے دہلی جا رہے تھے۔ گورنر کشمیر مسٹر بی کے نہرو ( 2001-1909) بھی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader