Urdu book · اللہ اکبر

زندگی کا سفر

Urdu book, p. 312

By Maulana Wahiduddin Khan

انہیں کے کمپارٹمنٹ میں تھے۔ ٹرین غازی آباد پہنچی تھی کہ مصطفیٰ رشید شروانی پر دل کا سخت دورہ پڑا۔ قبل اس کے انہیں کوئی طبی امداد پہنچے، فوراً ہی ٹرین میں ان کا انتقال ہو گیا۔ یہ 18 اپریل 1981 کا واقعہ ہے۔ انتقال کے وقت مرحوم کی عمر 59 سال تھی۔ اس طرح کے واقعات مختلف شکلوں میں ہر روز ہوتے ہیں۔ ہر دن بے شمار زندہ لوگ موت کے دروازہ میں داخل ہو جاتے ہیں۔ ہر روز لاکھوں آدمیوں کے ساتھ یہ واقعہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے مقام سے نکل کر کسی "دہلی" کے لیے روانہ ہوتے ہیں۔ مگر درمیان ہی میں ان کو خدا کے فرشتے پکڑ لیتے ہیں اور ان کو "دہلی" کے بجائے آخرت کی منزل پر پہنچا دیتے ہیں۔ ہر آدمی امیدوں اور تمناؤں کی ایک دنیا اپنے ذہن میں لیے ہوئے ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ میں اپنی امیدوں کی دنیا کی طرف بڑھ رہا ہوں۔ میں اپنے خوابوں والے "کل" کی طرف چلا جا رہا ہوں مگر بہت جلد اسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی تمناؤں والی دنیا کے بجائے خدا کی دنیا کی طرف بڑھ رہا تھا، وہ دنیا کی منزل کی طرف نہیں بلکہ آخرت کی منزل کی طرف چلا جا رہا تھا۔ آدمی کہاں جا رہا ہے اور کہاں پہنچ رہا ہے، مگر کسی کو اس کی خبر نہیں۔ آدمی اپنے بچوں کے مستقبل کی خاطر اپنا سب کچھ لگا دیتا ہے مگر قبل اس کے کہ وہ اپنے بچوں کے مستقبل کو دیکھ کر خوش ہو وہ خود اپنے اس مستقبل کی طرف ہانک دیا جاتا ہے جس کے لیے اس نے کوئی تیاری نہیں کی تھی۔ آدمی اپنے آرام کے لیے ایک شان دار مکان کھڑا کرتا ہے مگر ابھی وہ وقت نہیں آتا کہ وہ اپنے خوابوں کے مکان میں سکھ چین کے ساتھ رہے کہ موت اس کے اور اس کے مکان کے درمیان حائل ہو جاتی ہے۔ آدمی اپنی معاش کو بڑھاتا ہے، وہ سمجھتا ہے کہ میں عزت و ترقی کی بلندیوں پر اپنے کو بڑھانے جا رہا ہوں مگر بہت جلد اس کو معلوم ہوتا ہے کہ آنے والا دن اس کے لیے جس چیز کا انتظار کر رہا تھا وہ ایک سنسان قبر تھی نہ کہ عزت و ترقی کی رونقیں ۔ خدا ہر دن کسی "دہلی" کے مسافر کو "قبر" میں پہنچا رہا ہے۔ مگر آدمی ان واقعات سے سبق نہیں لیتا۔ اس کے باوجود ہر آدمی یہی سمجھتا ہے کہ وہ "دہلی" کی طرف چلا جا رہا ہے ، قبر کی منزل اس کے لیے کبھی آنے والی نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page