کیسا عجیب
Urdu book, p. 313
By Maulana Wahiduddin Khan
کیسا عجیب ایر انڈیا کا ایک جہاز 3 جون 1984 کو بینکاک سے بمبئی کے لیے اڑا۔ یہ بوئنگ 747 تھا۔ اس میں چار انجن نصب تھے اور عملہ کے علاوہ 152 مسافر سوار تھے۔ جہاز ابھی فضا میں پہنچا تھا کہ اس کے ایک انجن میں آگ لگ گئی۔ تاہم کیپٹن ورما نے ہوشیاری کی اور جہاز کو قریب کے ہوائی اڈہ ڈون موانگ (Don Muang) پر اتار لیا۔ اڑنے کے 20 منٹ بعد جہاز دوبارہ زمین پر تھا۔ پائلٹ کی ہوشیاری سے جہاز حفاظت کے ساتھ رن وے پر اتر گیا جہاں ریڈیائی اطلاع پا کر پہلے سے آگ بجھانے والے انجن موجود تھے۔ تاہم بہت سے مسافر زخمی ہو گئے اور انہیں فوری طور پر اسپتال پہنچا یا گیا۔ اس کی وجہ جہاز کا حادثہ نہیں تھا۔ بلکہ اخباری رپورٹ (ٹائمز آف انڈیا، 4 جون 1984) کے مطابق اس کی وجہ یہ تھی: Most of the injuries were due to passengers rushing for the emergency exit from where they descended through a chute. یعنی بیشتر زخمیوں کی وجہ مسافروں کا آپس کا ٹکراؤ تھا۔ کیوں کہ جب جہاز اترا تو مسافر تیزی سے دروازہ کی طرف دوڑ پڑے جہاں انہیں ایک ڈھلوان گاڑی سے نیچے اترنا تھا۔ جہاز کی آگ نے ابھی کسی کو پکڑا نہیں تھا۔ صرف یہ اندیشہ تھا کہ شاید پکڑلے اور آدمی جل کر مر جائے۔ تاہم اس اندیشہ نے لوگوں کو اتنا بد حواس کر دیا کہ وہ ایک دوسرے پر ٹوٹ پڑے۔ ان میں سے ہر شخص یہ چاہنے لگا کہ سب سے پہلے وہ بھاگ کر آگے نکل جائے۔ مگر ایک اس سے زیادہ ہولناک خطرہ آدمی کا پیچھا کر رہا ہے۔ وہ موت اور اس کے بعد قیامت کا خطرہ ہے۔ لیکن کسی کو اس کے اندیشہ سے بد حواس ہی نہیں۔ کوئی اس سے بھاگنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔ کس قدر سچ فرمایا پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میں نے جہنم کی آگ سے خوفناک چیز نہیں دیکھی جس سے بھاگنے والا بے خبر سو گیا ہو: ما رَأَيْتُ مِثْلَ النَّارِ نَامَ هَارِبُهَا (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2601)۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader