Urdu book · اللہ اکبر

اللہ اکبر

Urdu book, p. 314

By Maulana Wahiduddin Khan

آدمی کو موجودہ دنیا میں سب سے زیادہ جو چیز متحرک کرتی ہے وہ "خوف" ہے۔ خوف کی نفسیات عمل کا سب سے بڑا سرچشمہ ہے۔ آخرت کا خوف تمام خوفوں میں سب سے بڑا خوف ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آخرت کا خوف واقعی معنوں میں کسی کے اندر پیدا ہو جائے تو وہ آدمی کی پوری شخصیت کو جگادے گا۔ وہ اس کی تمام قوتوں کو متحرک کر دے گا۔ جنازہ کو دیکھ کر مرحوم کا جنازہ لوگ کاندھوں پر اٹھائے ہوئے قبرستان کی طرف جا رہے تھے۔ اور میرے ذہن میں ایک پوری تصویر جاگ رہی تھی۔ مرحوم کے اس آخری سفر میں مجھے انسان اپنے آغاز سے اپنے انجام کی طرف جاتا ہوا نظر آرہا تھا۔ آدمی پیدا ہو کر دنیا میں آتا ہے تو فوراً ہی اس کو ماں کی شفقت اور باپ کی سرپرستی حاصل ہو جاتی ہے۔ وہ عزیزوں اور دوستوں کے درمیان پرورش پاتا ہے۔ پھر وہ بڑا ہو کر ایک با اختیار انسان کی حیثیت سے زمین پر اپنی زندگی بناتا ہے۔ آدمی کا یہ سفر جاری رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی موت آ جاتی ہے۔ اب اس کے وہی دوست اور رشتہ دار جو دنیا میں اس کے مددگار بنے ہوئے تھے، اس کو اٹھا کر لے جاتے ہیں اور زمین کے ایک ایسے گڑھے میں ڈال کر بند کر دیتے ہیں جہاں آدمی بالکل اکیلا ہوتا ہے۔ جہاں وہ ہوتا ہے اور اس کا خدا۔ آدمی اب تک اپنے جیسے انسانوں کے سامنے تھا ، اب وہ برتر خدا کے سامنے ہوتا ہے۔ اب تک وہ اختیار کی دنیا میں تھا، اب وہ بے اختیاری کی دنیا میں اپنے آپ کو پاتا ہے۔ کیسا عجیب ہو گا وہ لمحہ جب ایک عاجز مطلق ایک قادر مطلق کے سامنے کھڑا ہوگا۔ موت کا یہ واقعہ ہر روز زمین کے اوپر ہوتا ہے۔ ہر روز آدمی کسی نہ کسی کو مرتے ہوئے دیکھتا ہے، مگر اس کو کچھ احساس نہیں ہوتا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page