Urdu book · اللہ اکبر

اللہ اکبر

Urdu book, p. 315

By Maulana Wahiduddin Khan

احساس تو جب ہو کہ آدمی کے دماغ میں جنت اور جہنم ہو۔ میں نے سوچا۔ لوگوں کی سوچ بالکل دوسرے رخ پر چل رہی ہے۔ لوگوں کے ذہن میں دوستی، رشتہ داری، کمانا اور گھر بنانا، جیسے مسائل بھرے ہوئے ہیں۔ وہ کسی آدمی کو اسی حیثیت سے جانتے ہیں۔ جب کوئی آدمی مرتا ہے تو وہ اس کے متعلق بس اتنا سوچ پاتے ہیں کہ ایک ساتھی بچھڑ گیا۔ ایک کمانے والا فرد ہم سے رخصت ہو گیا۔ وہ صرف دنیا کے ساتھ انسان کے تعلقات کو جانتے ہیں۔ وہ آخرت کے ساتھ انسان کے تعلقات کو نہیں جانتے۔ ایسی حالت میں کیسے ممکن ہے کہ وہ جنازہ میں انسان کی خدا کے سامنے حاضری کو دیکھیں۔ وہ موت کے سفر میں انسان کے آخرت کی طرف سفر کا مشاہدہ کریں۔ روپیہ سے راکھ تک گھنشيام داس برلا (1983-1894) ہندوستان کے مشہور ترین صنعت کار تھے۔ ان کی اعلیٰ کامیابی کا راز ان کی بے حد با اصول زندگی تھی۔ انھوں نے 12 سال کی عمر میں معمولی کاروبار سے اپنی زندگی کا آغاز کیا۔ پھر وہ عظیم ترقی تک پہنچے آج ان کا خاندان ہندوستان کا واحد سب سے بڑا کاروباری خاندان ہے۔ مسٹر برلا کا معمول تھا کہ صبح 5 بجے اٹھتے اور شام 9 بجے تک مسلسل کام میں مشغول رہتے۔ ان کی زندگی انتہائی سادہ تھی۔ وہ شراب کے بجائے کافی پیتے تھے۔ دو کھانے کے درمیان پانی کے سوا اور کچھ نہیں لیتے تھے۔ اکثر اپنا کھانا خود اپنے ہاتھ سے پکاتے۔ مسٹر برلا روزانہ صبح کو ٹہلنے کے لیے نکلتے تھے۔ اس معمول میں کوئی فرق نہیں تھا، خواہ وہ ہندوستان میں ہوں یا ہندوستان کے باہر۔ 11 جون 1983 کو وہ لندن میں تھے۔ وہ حسب معمول صبح کے ناشتہ کے بعد ریجنٹ اسٹریٹ پر ٹہلنے کے لیے نکلے۔ تھوڑی دیر چلنے کے بعد انہیں تکلیف محسوس ہوئی۔ انھوں نے اپنے مددگاروں کو بتایا جو اس وقت ان

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page