Urdu book · اللہ اکبر

روپیہ سے راکھ تک

Urdu book, p. 316

By Maulana Wahiduddin Khan

کے ساتھ تھے ۔ وہ انہیں فوراً گھر واپس لائے ۔ گھر آتے ہی وہ بے ہوش گئے ۔ اس کے بعد انہیں لندن کے مڈل سکس اسپتال (Middlesex Hospital) پہنچایا گیا ۔ اسپتال میں انہیں تھوڑی دیر کے لیے ہوش آیا ، وہاں انھوں نے کہا ۔ ڈاکٹر ، مجھے کیا تکلیف ہے ۔ What is wrong with me, Doctor? ڈاکٹروں نے کہا : ہم پانچ منٹ میں معائنہ کر کے بتاتے ہیں ۔ مگر قبل اس کے کہ ڈاکٹروں کا معائنہ مکمل ہوان کا انتقال ہو چکا تھا ۔ مسٹر برلا کی وصیت تھی کہ جہاں میرا انتقال ہو وہیں میرے آخری مراسم ادا کیے جائیں ۔ چنانچہ مسٹر برلا کی لاش کو لندن میں بجلی کے ذریعہ جلا دیا گیا ، اور ان کی راکھ ہندوستان لا کر یہاں کی ندیوں میں بہادی گئی۔ مسٹر برلا کی اسکول میں تعلیم نہیں ہوئی ، تاہم بعد کو انھوں نے ذاتی محنت سے اپنے اندر لیاقت پیدا کی ۔ وہ کئی کتابوں کے مصنف بنے ۔ ان کی ایک کتاب کا ہندی نام ہے ۔ روپیہ کی کہانی ۔ مسٹر برلا نے ” روپیہ کی کہانی“ لکھی ، حالانکہ بالآخر وہ خود ” راکھ کی کہانی“ بننے والے تھے ۔ یہی ہر آدمی کا معاملہ ہے ۔ ہر آدمی اپنی کامیابی کی داستان لکھ رہا ہے ۔ حالانکہ آخر کار وہ جہاں پہنچنے والا ہے وہ مکمل بربادی کے سوا اور کچھ نہیں ۔ جہنم کا خطرہ خدا نے انسان کو اس کی بناوٹ کے اعتبار سے جنتی نفسیات کے ساتھ پیدا کیا۔ اس کے بعد اس کو موجودہ دنیا میں ڈال دیا جہاں ایسے حالات ہیں جو آدمی کے اندر جہنمی نفسیات کو ابھارتے ہیں ۔ اب جو شخص اسفل سافلین میں رہتے ہوئے اپنے کو احسن تقویم کی سطح پر لے جائے ، با الفاظ دیگر جہنمی نفسیات کو ابھارنے والے ماحول میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page