Urdu book · اللہ اکبر

روپیہ سے راکھ تک

Urdu book, p. 317

By Maulana Wahiduddin Khan

دوبارہ اپنے اندر چھپی ہوئی جنتی نفسیات کو بیدار کرے تو وہی وہ شخص ہے جو مرنے کے بعد اللہ کے پڑوس میں اور اس کی نعمتوں میں جگہ پائے گا۔ باقی لوگ دھوئیں اور آگ کی دنیا میں عذاب سہنے کے لیے چھوڑ دئے جائیں گے (التین، 5:1-95)۔ موجودہ دنیا امتحان کی جگہ ہے۔ اس لیے اس کو اسی ڈھنگ پر بنایا گیا ہے کہ یہاں بار بار آدمی کے لیے آزمائشی حالات پیدا ہوں۔ یہاں نفع اور نقصان کے معاملات ہیں جو آدمی کے اندر حرص، طمع اور خود غرضی کے احساسات ابھارتے ہیں۔ یہاں سطحی دل چسپیاں ہیں جو آدمی کو شہوت پرستی، نشہ بازی اور لذتینیت کی طرف لے جاتی ہیں۔ یہاں ایک آدمی اور دوسرے آدمی کا مقابلہ پیش آتا ہے جس کی وجہ سے آدمی کے اندر خود پرستی اور انانیت کا شیطان جاگتا ہے۔ یہاں مفادات کا ٹکراؤ ہے جس کی وجہ سے غصہ، نفرت اور کمینہ پن کے جذبات بھڑکتے ہیں۔ یہی موجودہ دنیا کا "اسفل سافلین" ہونا ہے۔ آدمی کا کام یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو اس سے اوپر اٹھائے اور اپنے کو "احسن تقویم" کی سطح پر لے جائے جو با اعتبار پیدائش اس کی حقیقی سطح ہے۔ ایک پھل اندر سے اچھا ہے یا خراب، اس کا پتہ اس وقت چلتا ہے جب کہ اسے توڑا جائے۔ یہی حال انسان کا ہے۔ کوئی انسان جنتی نفسیات میں جی رہا ہے یا جہنمی نفسیات میں، اس کا پتہ اس وقت چلتا ہے جب کہ اس کی ہستی کو توڑا جائے۔ جب آدمی کے ساتھ کسی قسم کی ناموافق صورت حال پیش آتی ہے تو اس وقت اس کی ہستی ٹوٹ جاتی ہے۔ ایسے مواقع پر آدمی جو رد عمل ظاہر کرتا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ جنتی تقویم کی سطح پر تھا یا جہنمی تقویم کی سطح پر۔ جب دو آدمیوں کے درمیان روپیہ یا جائدیدار کا جھگڑا کھڑا ہوتا ہے۔ جب دو صاحب معاملہ افراد کے درمیان کوئی کھٹ پٹ پیدا ہوجاتی ہے۔ جب دو الگ الگ خیال رکھنے والوں کے درمیان رائے کا اختلاف ہو جاتا ہے۔ جب ایک منصب کے دو دعویداروں کے درمیان ٹکراؤ شروع ہو جاتا ہے تو یہی وہ مواقع ہوتے ہیں جب کہ یہ پتہ چلتا ہے کہ آدمی حقیقت کے اعتبار سے کیا ہے۔ ایسے مواقع پر جو شخص نفرت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page