Urdu book · اللہ اکبر

روپیہ سے راکھ تک

Urdu book, p. 318

By Maulana Wahiduddin Khan

خود غرضی ، بے انصافی اور انانیت کا مظاہرہ کرے وہ اپنے اس عمل سے ثابت کرتا ہے کہ وہ جہنمی نفسیات میں جی رہا تھا ، وہ ابلیس اور شیطان کا پڑوسی تھا۔ اس کے برعکس ، جس شخص کا ردعمل ان مواقع پر محبت ، بے غرضی ، انصاف پسندی اور تواضع کی صورت میں ظاہر ہو وہ ثابت کر رہا ہے کہ وہ جنتی نفسیات میں جی رہا ہے ، اس کے روز و شب خدا اور اس کے فرشتوں کے پڑوس میں گزرتے ہیں۔ جو شخص دنیا میں شیطان کا پڑوسی ہے ، آخرت میں بھی اس کو شیطان ہی کا پڑوس حاصل ہوگا اور جو شخص دنیا میں خدا اور فرشتوں کا پڑوسی ہے ، وہ آخرت میں بھی خدا اور فرشتوں کے پڑوس میں رہے گا۔ گڑھے میں پاؤں مسٹر پی ، وی وینکٹیشورن ایک سرکاری ادارہ میں چیف مارکٹنگ مینیجر تھے۔ 29 مئی 1982 کی شام کو انھوں نے دہلی کے گوپالا ٹاور میں ایک میٹنگ میں شرکت کی۔ آٹھویں منزل پر اپنی میٹنگ سے فارغ ہو کر وہ دفتر سے باہر نکلے تو بجلی فیل ہو چکی تھی ، وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ لفٹ تک آئے۔ انھوں نے دیکھا کہ اس کا دروازہ کھلا ہوا ہے۔ وہ سمجھے کہ لفٹ آئی ہے حالاں کہ لفٹ ابھی اوپر نویں منزل پر تھی۔ مسٹر وینکٹیشور لفٹ کے دروازے کی طرف لپکے۔ اس وقت وہ میٹنگ کے فیصلوں سے اتنا خوش تھے کہ وہ صورت حال کی نزاکت کا اندازہ نہ کر سکے۔ انھوں نے اپنا ایک پاؤں لفٹ کے اندر ڈال دیا۔ مگر وہاں خالی تھا۔ وہ اچانک آٹھویں منزل سے زمین پر آگئے۔ ان کا ذاتی ڈاکٹر ان کے ساتھ تھا ، مگر وہ صرف یہ خدمت انجام دے سکا کہ نیچے اتر کر ان کی لاش کو دیکھے اور ان کے مردہ ہونے کا اعلان کرے ۔ موت کے وقت ان کی عمر 51 سال تھی ( ہندوستان ٹائمْس ، 30 مئی 1982)۔ مسٹر وینکٹیشور ایک نہایت کامیاب افسر تھے۔ حال میں ایک سرکاری جرنل میں ان کے بارے میں الفاظ چھپے تھے ۔ ایک بہادر کارکن ، ایک مستعد اور اختراعی منتظم ، جس کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page