Urdu book · اللہ اکبر

روپیہ سے راکھ تک

Urdu book, p. 319

By Maulana Wahiduddin Khan

اندر میں آگ لگی ہو اور جس کے دماغ میں نظریات کا خزانہ ہو، ایک ہوشیار جنزل: A thoroughbred professional and a dashing innovative manager with fire in his belly and ideas in his mind, an astute general. دنیا کے اعتبار سے مسٹر وینکیٹیشور کا کیس ایک انوکھا کیس ہے۔ مگر آخرت کے اعتبار سے ہر آدمی یہ فعل انجام دے رہا ہے۔ ہر آدمی عقل مندی اور کامیابی کے جوش میں ایسی جگہ اپنا پاؤں رکھ رہا ہے جو اس کو سیدھے آخرت کے گڑھے میں گرا دینے والا ہے۔ کسی کو بے عزت کرنے والے الفاظ بولنا، کسی کو ستانے کے لیے اقدام کرنا، کسی کے خلاف ضد اور انتقام کے تحت کارروائی کرنا، کسی کے ساتھ ظلم اور بے انصافی برتنا، کسی کو ناحق اپنے زور طاقت کا نشانہ بنانا، کسی کا بے دلیل مذاق اڑانا، یہ سب گویا آٹھویں منزل کے خالی مقام پر پاؤں رکھنا ہے۔ ایسا ہر اقدام آدمی کو تباہی کے نچلے گڑھے میں پہنچا دیتا ہے۔ اس کے بعد نہ اس کے ساتھ اس کو بچانے والے ثابت ہو سکتے ہیں نہ اس کی خوش فہمیاں۔ ہر آدمی گڑھے میں پاؤں رکھ رہا ہے۔ اگر چہ بہ طور خود وہ سمجھتا ہے کہ وہ محفوظ تختہ پر اپنا قدم جمائے ہوئے ہے۔ کتنا سنگین اخبار ایک اعتبار سے موت کا خبر نامہ ہے۔ ہر روز اخبار میں لوگوں کی موت کی خبریں ہوتی ہیں۔ مثلاً میرے سامنے 24 فروری 1985 کا اخبار ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ چکر دھر پور ناگپور کی دوبوگیوں میں آگ لگ گئی۔ یہ آدھی رات کا وقت تھا۔ تیز ہوا چل رہی تھی۔ آگ تیزی سے پھیلی۔ مگر بریک کام نہ کرنے کی وجہ سے مسافر ٹرین کو فوراً ٹھہرانہ سکے۔ اگلے اسٹیشن پر ٹرین رکی تو بھرے ہوئے ڈبے کے تقریباً ایک سو آدمی جل کر مر چکے تھے۔ دوسری خبروں میں صرف دہلی کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ ہندی ادیب چندر گپت ود یا لنکر 78 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ اجیت سنگھ (14 سال) جیپ میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page