اللہ اکبر
Urdu book, p. 32
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک مبصر نے ان کوششوں پر تبصرہ (ٹائم میگزین 21 مارچ 1983) کرتے ہوئے اس کی روح کو ان مختصر لفظوں میں بیان کیا ہے: اگر تم واقعۃً وہاں ہو تو اپنے دوستوں سے بولو : If you are really there, please call your friends. زمین پر زندگی اور شعور کا وجود ساری معلوم کائنات میں ایک انتہائی نادر اور مستثنیٰ واقعہ ہے۔ چونکہ یہ شعور اپنا خالق آپ نہیں۔ اس لیے اس کا وجود لازمی طور پر تقاضا کرتا ہے کہ یہاں زندگی اور شعور کا ایک اور خزانہ زیادہ بڑی سطح پر موجود ہو جو زمین کی زندگی اور شعور کا سرچشمہ ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ زندہ انسان کی موجودگی زندہ خدا کی موجودگی کا ثبوت ہے۔ جدید انسان اس امکان کو بالواسطہ انداز میں تسلیم کرتا ہے۔ البتہ وہ اس وجود کو خلائی زندگی قرار دے کر یہ ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ یہ وجود ہماری ہی طرح کا ایک وجود ہے نہ کہ ہم سے برتر کوئی وجود۔ وہ محض ایک تہذیب ہے نہ کہ کوئی خالق اور مالک خدا۔ یہ ماہرین پروفیسر راج کرشنا (1985-1925) ہندوستان کے پچاس انتہائی اعلیٰ اذہان میں شمار ہوتے تھے۔ علم اقتصادیات میں غیر معمولی مہارت کی وجہ سے وہ بین الاقوامی شہرت کے مالک تھے ۔ وہ ملک کے بڑے بڑے معاشی عہدوں پر فائز رہے۔ آخر عمر میں وہ ایف اے او (فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن) کے ایک پروجیکٹ کے تحت تین مہینہ کے لیے روم (اٹلی) گئے تھے۔ ابھی وہ اپنے کام کی تکمیل نہیں کر سکے تھے کہ 21 مئی 1985ء کو اچانک حرکت قلب بند ہونے سے ان کا انتقال ہو گیا۔ وفات کے وقت ان کی عمر صرف 89 سال تھی (ٹائمز آف انڈیا، 22 مئی 1985ء)۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader