Urdu book · اللہ اکبر

روپیہ سے راکھ تک

Urdu book, p. 320

By Maulana Wahiduddin Khan

سفر کرتے ہوئے ایکسیڈنٹ کا شکار ہوا اور مر گیا ۔ 25 سال کے ایک آدمی کی لاش بورے میں بند پائی گئی وغیرہ وغیرہ ۔ اس طرح کے واقعات ہر روز اور ہر جگہ پیش آتے ہیں۔ وہ سادہ معنوں میں صرف موت کے واقعات نہیں ہیں۔ یہ مخلوق کی اپنے خالق و مالک کے سامنے حاضری ہے۔ یہ ایک انسان کا خدا کی عدالت میں پہنچایا جانا ہے۔ یہ امتحان کے مرحلہ کو پورا کر کے ابدی انجام کے مرحلہ میں داخل ہونا ہے۔ موت کا یہ پہلو کتنا ہولناک ہے۔ یہ موت کے واقعہ کو انتہائی سنگین بنا دیتا ہے۔ اتنا سنگین کہ اس سے زیادہ سنگین کوئی دوسرا واقعہ نہیں۔ موت کے اس پہلو کا تقاضا ہے کہ آدمی سب سے زیادہ موت کے بارے میں سوچے ۔ لکھنے اور بولنے والے سب سے زیادہ اس کے بارے میں لکھیں اور بولیں ۔ انفرادی مجلسوں اور عوامی اجتماعات میں سب سے زیادہ اس کا چرچا ہو۔ مگر عملاً صورت حال اس کے برعکس ہے۔ موت ہر آدمی کو صرف یہ بتاتی ہے کہ " فلاں شخص اس دنیا سے چلا گیا “ وہ کسی کو یہ نہیں بتاتی کہ " میں بھی اس دنیا سے جانے والا ہوں “ ہر آدمی موت کے سفر کو دوسروں کا سفر سمجھتا ہے۔ کسی کو موت کے واقعہ میں اپنا سفر دکھائی نہیں دیتا۔ آہ وہ انسان ، جو اس وقت تک ہوش میں آنے کے لیے تیار نہیں جب تک اس کو ہوش میں آنے کے لیے مجبور نہ کر دیا گیا ہو۔ الفاظ ختم نہیں ہوتے الرساله اپریل 1984 ( آخری سفر ) کے بارے میں ہم کو کئی خطوط ملے ہیں جن میں شکایت کی گئی ہے کہ اس شمارہ میں " کچھ مضامین دوبارہ چھاپ دیے گئے ہیں “ ایسے لوگوں سے ہم کہیں گے کہ آپ نے ابھی اس شمارہ کو نہیں پڑھا۔ اگر آپ واقعہ اس کو پڑھتے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page