Urdu book · اللہ اکبر

روپیہ سے راکھ تک

Urdu book, p. 321

By Maulana Wahiduddin Khan

تو آپ کے ہوش و حواس گم ہو جاتے۔ اس شمارہ میں زندگی کے جس انتہائی سنگین مسئلہ کی طرف توجہ دلائی گئی ہے وہ اگر انسان کی سمجھ میں آجاۓ تو اس کے اوپر ایسی سراسیمی طاری ہو کہ اس کو یہ یاد ہی نہ رہے کہ کون سا مضمون پہلی بار چھپا ہے اور کون سا مضمون دوسری بار۔ کون سی بات پہلے کہی جا چکی تھی اور کون سی دوبارہ کہی جا رہی ہے۔ اگر آپ راستہ چل رہے ہوں اور اچانک کوئی شخص چیخ کر کہے "تمہارے آگے سانپ ہے سانپ تو کیا اس وقت آپ کو یہ ہوش رہے گا کہ آپ اس شخص سے بحث کریں کہ تم نے سانپ کا لفظ دوبارہ کیوں کہا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگوں کی بے خبری ہے جس نے انہیں تکرار اور بے تکرار جیسی باتوں میں مشغول کر رکھا ہے۔ اگر انہیں خبر ہو جائے تو "تکرار" کا لفظ وہ اس طرح بھول جائیں جیسے کہ انھوں نے کبھی اس لفظ کو جانا ہی نہ تھا۔ ہم اللہ تعالی کا شکر ادا کرتے ہیں کہ الرسالہ کے قارئین میں ایسے لوگ بھی ہیں جو واقعتاً اس کو پڑھتے ہیں ۔ اور اس سے وہ اثر لیتے ہیں جو انہیں لینا چاہیے ۔ چنانچہ اگر ہم کو ایک طرف مذکورہ بالا قسم کے خطوط ملے تو اسی کے ساتھ ہم کو دوسری قسم کے خطوط بھی موصول ہوئے ہیں۔ مثال کے طور پر الرسالہ کے ایک پرانے خریدار اپنے خط مورخہ 16 اپریل 1984 میں آکولہ سے لکھتے ہیں ۔ ۴ اپریل کا پرچہ (آخری سفر) ملا۔ پڑھ کر ہوش و حواس گم ہو گئے ۔ واقعی اللہ نے آپ کے قلم میں جادو کا اثر رکھا ہے۔ رسالہ پڑھتے ہوئے کئی مرتبہ میری آنکھیں بھیگ گئیں۔ الرسالہ کی تعریف کے لیے تو میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ صرف دعا کر سکتا ہوں کہ اللہ تعالی مسلمانوں کو سمجھ نصیب فرمائے اور آپ کے قلم میں دلوں کو پلٹ دینے کی تاثیر رکھ دیں ۔ آہ، لوگوں کو اپنے " آخری سفر" کی ہولناکی کا اندازہ نہیں۔ اگر انہیں اس کا اندازہ ہو تو ان کی زبان بند ہو جائے ۔ حتی کہ ان کے پاس یہ کہنے کے لیے الفاظ نہ رہیں کہ - تم نے چھپے ہوۓ مضمون کو دوبارہ چھاپ دیا ہے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page