روپیہ سے راکھ تک
Urdu book, p. 322
By Maulana Wahiduddin Khan
آ ہ کسی قلم سے لکھا جائے کوئی جہاز مشکل میں پھنس جائے تو وہ ریڈیو کے ذریعہ خاص سگنل بھیجتا ہے۔ اس کو اصطلاح میں ایس اوایس (SOS) کہتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہم مصیبت میں ہیں ، ہماری مدد کرو۔ مگر اس قسم کے سگنل کی قیمت اسی وقت ہے جب کہ اس کو وصول کرنے والا اسٹیشن اسے اہمیت دے۔ اگر وصول کرنے والا اسٹیشن اسے اہمیت نہ دے تو وہ فضا میں بکھر کر رہ جائے گا۔ وہ ایسا کلام بن جائے گا جس کو بولنے والے کے سوا کسی اور نے سنا ہی نہ ہو۔ موجودہ زمانہ میں ہمارے لکھنے اور بولنے والے بھی خدا کے نام گویا "ایس اوایس" بھیج رہے ہیں۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ خدا یا ظالموں کے خلاف ہماری مدد کر۔ مگر سوسالہ پکار کے باوجود ہماری مصیبت ختم نہیں ہوتی۔ اس سے ظاہر ہے کہ ہم جس خدائی اسٹیشن کو اپنا ایس اوایس بھیج رہے ہیں اس کے نزدیک ہمارے ایس اوایس کی کوئی قیمت ہی نہیں۔ ہم خدا سے دوسروں کی بربادی مانگ رہے ہیں مگر خدا اس کا منتظر ہے کہ ہم اس سے دوسروں کی ہدایت مانگیں۔ ہم اپنے قومی مقاصد کے لیے خدا کو پکار رہے ہیں۔ مگر خدا صرف اس پکار کو سنتا ہے جو دینی مقاصد کے لیے کی گئی ہو۔ ہم لوگوں کو آگ میں ڈالنے کی دعا کر رہے ہیں حالانکہ خدا کی مرضی یہ ہے کہ ہم لوگوں کو آگ سے بچانے کی دعا کریں۔ ایسی حالت میں ہمارا "ایس اوایس" خدا کے یہاں کیسے قابلِ لحاظ ہوسکتا ہے۔ جو فائر برگیڈ پانی لیے ہوئے بیٹھا ہو اس سے ہم کہیں کہ آگ برساؤ تو وہ کیسے ہماری بات کو سنے گا۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ ان کی جنتیں رزرو (reserve) ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں دوسروں کو جہنم کی آگ سے بچانے کی فکر نہیں۔ اگر لوگوں کو اللہ کا ڈر ہو تو وہ جان لیں کہ قیامت میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader