Urdu book · اللہ اکبر

روپیہ سے راکھ تک

Urdu book, p. 328

By Maulana Wahiduddin Khan

جس طرح سڑک کے کنارے ٹریفک کانسٹیبل کھڑا ہوالوگوں کو بتاتا ہے کہ "تم اپنے ملک میں نہیں ہو بلکہ دوسرے کے ملک میں ہو، اسی طرح خدا کے پیغمبر لوگوں کو یہ وارننگ دے رہے ہیں کہ "تم انسان کی دنیا میں نہیں ہو بلکہ خدا کی دنیا میں ہو کامیاب انسان وہ ہے جو اس وارننگ پر دھیان دے۔ وہ خودسری کو چھوڑ دے اور خدا کی دنیا میں خدا کے حکم کا پابند بن کر رہے۔ اس کے برعکس، ناکام انسان وہ ہے جو خدا کو بھول جائے اور خدا کی دنیا میں اپنی خواہش کے رخ پر دوڑنے لگے۔ دنیا میں ٹریفک کے قانون کے خلاف ورزی کا انجام فورا سامنے آجاتا ہے۔ اس لیے آدمی یہاں ٹریفک کانسٹیبل کی وارننگ پاتے ہی اپنے کو درست کر لیتا ہے۔ مگر خدا کے قانون کی خلاف ورزی کا انجام آخرت میں سامنے آئے گا اس لیے اس معاملہ میں وہ وارننگ سن کر بھی اس کی پروا نہیں کرتا، مگر اس سے بڑی بھول اور کوئی نہیں۔ تولے جانے سے پہلے تول لو موجودہ دنیا میں چیزوں کے دو روپ ہیں۔ ایک ظاہر اور دوسرا باطن۔ یہاں ہر آدمی کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ اپنے باطنی وجود میں برائی لیے ہوئے ہو مگر زبان سے خوبصورت الفاظ بول کر اپنے کو اچھی صورت میں ظاہر کرے۔ قیامت اس لیے آئے گی کہ ظاہر و باطن کے اس فرق کو مٹادے۔ قیامت کا زلزلہ تمام ظاہری پردوں کو پھاڑ دے گا تا کہ ہر انسان کے اوپر سے اس کا خول اتر جائے اور وہ اپنی اصلی اور حقیقی صورت میں سامنے آجائے۔ وہ دن بھی کیسا عجیب ہوگا جب حقیقتوں سے پردہ اٹھایا جائے گا۔ کتنے لوگ جو آج انصاف کی کرسیوں پر بیٹھے ہوئے ہیں اس دن وہ مجرموں کے کٹہرے میں نظر آئیں گے۔ کتنے لوگ جو آج اہم ترین شخصیت سمجھے جاتے ہیں اس دن وہ کیڑوں مکوڑوں سے بھی زیادہ حقیر دکھائی دیں گے۔ کتنے لوگ جن کے پاس آج ہر بات کا شاندار جواب موجود ہوتا ہے اس دن وہ ایسے بے جواب ہو جائیں گے جیسے کہ ان کے منہ میں الفاظ ہی نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page