روپیہ سے راکھ تک
Urdu book, p. 329
By Maulana Wahiduddin Khan
آج ایک شخص کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ اپنے پڑوسی کو ستائے اس کے باوجود اس کو دینداری کے اسٹیج پر بیٹھنے کے لیے نمایاں جگہ ملی ہوئی ہو۔ ایک شخص اپنی شان وشوکت دکھانے کے لیے سرگرم ہو پھر بھی وہ مجاہد اسلام کے نام سے شہرت پائے۔ ایک شخص اپنے اہل معاملے سے بے انصافی کا طریقہ اختیار کرے اس کے باوجود امن وانصاف کے اجلاس میں اس کو صدارت کرنے کے لیے بلایا جائے۔ ایک شخص کی خلوتیں اللہ کی یاد سے خالی ہوں مگر اجتماعی مقامات پر وہ اللہ کے نام کا جھنڈ اٹھانے والا سمجھا جاتا ہو۔ ایک شخص کے اندر مظلوم کی حمایت کا کوئی جذبہ نہ ہو اس کے باوجود اخبارات کے صفحہ پر اس کو مظلوموں کے حامی کی حیثیت سے نمایاں کیا جارہاہو۔ ہر آدمی کی حقیقت خدا کے علم میں ہے مگر دنیا میں خدا لوگوں کی حقیقت چھپائے ہوئے ہے۔ آخرت میں وہ ہر ایک کی حقیقت کھول دے گا۔ وہ وقت آنے والا جب کہ خدا کی ترازو کھڑی ہو اور ہر آدمی کو تول کر دکھا دیا جائے کہ کون کیا تھا اور کون کیا نہیں تھا۔ اس وقت کا آنا مقدر ہے۔ کوئی شخص نہ اس کو ٹال سکتا اور نہ کوئی شخص اپنے آپ کو اس سے بچا سکتا۔ کامیاب صرف وہ ہے جو آج ہی اپنے کو خدا کی ترازو میں کھڑا کرلے۔ کیونکہ جو شخص کل خدا کی ترازو میں کھڑا کیا جائے اس کے لیے بربادی کے سوا اور کچھ نہیں۔ آج بُونا کل کاٹنا گھنشيام داس برلا (1983-1894) راجستھان کے ایک گاؤں پلانی میں پیدا ہوئے۔ ان کے باپ ایک معمولی آدمی تھے اور کلکتہ میں جوٹ کے دلال کے طور پر کام کرتے تھے۔ چودہ سال کی عمر میں مسٹر برلا بھی کلکتہ چلے گئے اور وہاں اپنے باپ کے کام میں مدد کرنے لگے۔ مسٹر برلا کو ایک روز کلکتہ کے کسی تجارتی دفتر کی عمارت میں اوپر جانا تھا۔ وہ جب

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader