Urdu book · اللہ اکبر

روپیہ سے راکھ تک

Urdu book, p. 330

By Maulana Wahiduddin Khan

لفٹ میں سوار ہونے لگے تو انہیں روک دیا گیا۔ کیوں کہ یہ لفٹ صرف انگریز افسروں کے استعمال کے لیے تھی۔ جب وہ سیڑھیوں پر چڑھ کر اوپر پہنچے تو وہاں بھی ان کو کرسی پر بیٹھنے کی اجازت نہیں ملی۔ ان کو ایک بینچ پر بیٹھنے کا اشارہ کیا گیا جو چپراسیوں کے لیے مخصوص تھی ۔ تاہم نو جوان برلا اس بینچ پر نہیں بیٹھے اور کام ہونے تک برابر کھڑے رہے۔ انگریزی دور میں مذکورہ بالا قسم کے تجربات نے مسٹر برلا کے اندر قومی آزادی کے خیالات پیدا کردئے ۔ وہ تحریک آزادی میں مہاتما گاندھی کے ساتھی بن گئے۔ یہ وہ دور تھا جب کہ سرمایہ دار طبقہ کانگرس کے قریب آنے سے گھبراتا تھا۔ مگر مسٹر برلا نہایت دوربین اور حوصلہ مند آدمی تھے۔ انھوں نے 1947 سے پہلے کی کانگرس میں 1947 کے بعد کی کانگرس کی جھلک دیکھ لی۔ انھوں نے قومی تحریک کے دور کے ہندوستان میں آزادی کے دور کے ہندوستان کا مشاہدہ کرلیا۔ انھوں نے اس راز کو پالیا کہ آج کے "لیڈر" کل کے "وزیر" ہوں گے، آج اگروہ ان لیڈروں کی مدد کریں۔ تو کل وہ ان سے زبردست فائدے حاصل کرسکتے ہیں۔ چنانچہ انھوں نے آزادی کی تحریک کی باقاعدہ مالی مدد شروع کردی۔ کہا جاتا ہے کہ 1947 تک وہ اس سلسلے میں گاندھی جی کو اور کانگرس پارٹی کو تقریبا 20 کروڑ روپیہ دے چکے تھے۔ آزادی کے بعد مسٹر برلا کو اس کا زبردست فائدہ حاصل ہوا۔ نئی حکومت کی طرف سے ان کو ہر قسم کی غیر معمولی سہولتیں ملنا شروع ہوگئیں۔ انھوں نے اتنی تیزی سے ترقی کی کہ آزاد ہندوستان کے سب سے بڑے صنعت کار بن گئے۔ آج برلا کا خاندان ہندوستان کا سب سے زیادہ دولتمند خاندان سمجھا جاتا ہے۔ جو آدمی آج ہوتا ہے وہی آدمی کل کاٹتا ہے۔ یہ بات آج کی دنیا کے لیے بھی صحیح ہے اور یہی کل کی دنیا کے لیے بھی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page