روپیہ سے راکھ تک
Urdu book, p. 331
By Maulana Wahiduddin Khan
موجودہ دنیا ناکافی گرسن ولوریا (Gerson Viloria) فلپائن کا ایک باشندہ ہے جس کی عمر 34 سال ہے۔ وہ ایک ٹریژری میں کلرک تھا۔ اس نے لوگوں کی طرف سے فرضی دستخط کر کے بہت سے لوگوں کی رقم وصول کر لی۔ اس کا مقدمہ فلپائن کی ایک عدالت میں پیش ہوا۔ جج کا نام رومیو اسکار یل (Romeo M. Excareal) تھا۔ جج نے تفصیلی سماعت کے بعد گرسن ویوریا کو 17 معاملات میں مجرم پایا۔ قانون کے مطابق اس طرح کے ایک جرم میں آدمی کو 10 سال قید بامشقت کی سزا ملنی چاہیے۔ اس کے مطابق جج نے مجرم کو 170 سال کی سزا دی۔ اسی کے ساتھ اس نے مجرم پر 4625 ڈالر جرمانہ عائد کیا۔ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں سزا ئیں قید میں اضافہ ہو جائے گا (ٹائمز آف انڈیا، 9 نومبر 1979)۔ مجرم کی عمر 34 سال ہو چکی ہے۔ اگر قبل از وقت‘‘ اس کا خاتمہ نہ ہو بلکہ وہ اپنی عمر طبعی کو پورا کر کے مرے تب بھی اس کی موت کے وقت اس کی سزا کی مدت میں کم از کم سوسال باقی رہ جائیں گے۔ انسان کا ضمیر کسی عمل کا جو بدلہ یا کسی جرم کی جو سزا چاہتا ہے وہ موجودہ محدود دنیا میں ناممکن ہے۔ جو ہونا چاہیے اور جو ہو رہا ہے کے درمیان یہ تضاد بتاتا ہے کہ موجودہ دنیا نا مکمل ہے۔ اس کی تکمیل کے لیے ایک اور دنیا ہونی چاہیے جہاں یہ تضاد ختم ہو جائے اور جو کچھ ہونا چاہیے وہی عملاً بھی ہونے لگے۔ اسی قسم کا ایک واقعہ تھائی لینڈ میں ہوا۔ تھائی لینڈ کی ایک عدالت میں ایک خاتون پولیس کا مقدمہ پیش ہوا۔ اس کا نام مسز امساپ (Mrs. Phenphanchong Imsap) ہے۔ وہ سرحدی علاقہ پٹجابون (Petchabun) میں تعینات تھی۔ اس کا تعلق بیرونی افراد کے رجسٹریشن آفس سے تھا۔ اس نے رجسٹریشن کے نام پر لوگوں کو دھوکا دینا اور ان سے رشوت لینا شروع کیا۔ وہ سترہ سال تک حکومت کو اور اسی کے ساتھ لوگوں کو فریب

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader