Urdu book · اللہ اکبر

روپیہ سے راکھ تک

Urdu book, p. 332

By Maulana Wahiduddin Khan

دیتی رہی۔ اس مدت میں اس نے ناجائز طور پر تقریباً 25 ہزار ڈالر کمایا۔ عدالت نے خاتون پولیس کو مجرم قرار دیتے ہوئے اس کو ایک ہزار ایک سال کی قید بامشقت کی سزا دی۔ جج نے اپنے فیصلے میں مزید لکھا کہ مجرم کو پیرول پر رہائی یا رحم کی درخواست کی رعایت نہ دی جائے تا کہ دوسروں کو عبرت ہو (ٹائمز آف انڈیا، 21 مارچ 1981ء)۔ ظاہر ہے کہ خاتون پولیس عدالت کی سزا بھگتنے کے لیے مزید ایک ہزار سال تک زندہ نہیں رہے گی۔ وہ یقینی طور پر اس سے بہت پہلے مرجائے گی۔ پھر جج نے کیوں اس کو اتنی لمبی سزا دی ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آدمی کا جذبہ انصاف چاہتا ہے کہ جو شخص کوئی بڑا جرم کرے اس کو اس جرم کے بقدر لمبی سزا دی جائے۔ مگر موجودہ دنیا میں کوئی جج عملاً ایسا کر نہیں پاتا۔ وہ مجرم کو " ایک ہزار سال" کی سزا دینا چاہتا ہے مگر آدمی کی محدود عمر اس کو ایسا کرنے نہیں دیتی۔ آدمی کے جرم کی عمر " ایک ہزار سال" ہے اس کے جینے کی عمر صرف " پچاس سال"۔ آدمی کے عمل اور اس کی عمر دونوں میں یکسانیت نہیں۔ یہ صورت حال ایک اور وسیع تر دنیا کا تقاضا کرتی ہے جہاں آدمی زیادہ لمبی عمر پائے تا کہ وہ پورے انصاف کے ساتھ اپنے عمل کا انجام پاسکے۔ عقیدہ آخرت جب بارش ہوتی ہے اس کا پانی دریاؤں میں بہہ نکلتا ہے۔ یہ پانی اگر حد کے اندر ہو تو اس سے انسان کو مختلف قسم کے فائدے حاصل ہوتے ہیں۔ اگر حد سے بڑھ جائے تو سیلاب آجاتا ہے اور نقصانات کا باعث ہوتا ہے۔ اس سے بچنے کے لیے دریاؤں پر بند بنائے جاتے ہیں۔ بند (Dam) کا مقصد یہ ہے کہ دریا کے اندر پانی کے بہاؤ پر روک قائم کی جائے اور جب پانی حد سے بڑھتا ہوا نظر آئے تو اس کے رخ کو موڑ کر دوسری طرف کر دیا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page