روپیہ سے راکھ تک
Urdu book, p. 333
By Maulana Wahiduddin Khan
جائے تا کہ وہ دریا میں بہنے کے بجائے علیحدہ بنے ہوئے عظیم گڑھے میں پہنچ جائے جس کو عام طور پر ذخیرہ آب (Reservoir) کہا جاتا ہے۔ ایسا ہی کچھ معاملہ انسان کا بھی ہے۔ مختلف انسان جب مل جل کر رہتے ہیں تو بار بار شکایت کی باتیں پیدا ہوتی ہیں۔ ایک دوسرے کے خلاف دلوں میں تلخیاں ابھرتی ہیں۔ اگر اس شکایت اور تلخی کو بڑھنے دیا جائے تو اختلاف، باہمی عناد اور جنگ ومقابلہ کی نوبت آ جاتی ہے۔ انسانی معاشرہ یا انسانی جماعت کا درست طور پر کام کرنا نا ممکن ہو جاتا ہے۔ ان حالات میں انسان کے لیے بھی ایک ایسی چیز کی ضرورت ہے جس کی طرف اس کے بڑھے ہوئے منفی جذبات کو موڑا جا سکے۔ خدا اور آخرت کا عقیدہ یہی کام کرتا ہے۔ وہ اجتماعیت کو نقصان پہنچانے والے جذبات کو انسان سے ہٹا کر خدا کی طرف موڑ دیتا ہے۔ حضرت یوسف کے سوتیلے بھائیوں نے آپ کو باپ سے جدا کر دیا۔ اس کے بعد آپ کے دوسرے بھائی بنیامین کے ساتھ یہی حادثہ پیش آیا۔ ان واقعات کے بعد قدرتی طور پر حضرت یوسف کے والد حضرت یعقوب کے اندر شدید جذبات پیدا ہوئے۔ آپ اپنے ان جذبات کا نشانہ اگر حضرت یوسف کے سوتیلے بھائیوں کو بناتے تو زبردست انتشار اور اختلاف پیدا ہوتا۔ مگر آپ نے سارے جذبات کو خدا کی طرف موڑ دیا۔ آپ نے فرمایا: اِنَّمَا أَشْكُوكُم بّثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّهِ (12:86) یعنی، میں اپنی پریشانی اور اپنے غم کا شکوہ صرف اللہ سے کرتا ہوں۔ یہ کسی انسانی معاشرہ کے لیے عقیدہ آخرت کی بہت بڑی دلیل ہے۔ آخرت کا عقیدہ ہر آدمی کے پاس ڈائیورژن پول (Diversion pool) رکھ دیتا ہے جس کی طرف اپنے جذبات کے سیلاب کو پھیر سکے اس کو نقصان ہو تو خدا سے حسن تلافی کی امید قائم کرلے۔ اس کو غصہ آئے تو خدا کی خاطر وہ اپنے غصہ کو پی جائے اس کو کسی سے شکایت ہو تو اس کے معاملہ کو خدا کے حوالے کر دے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader