روپیہ سے راکھ تک
Urdu book, p. 334
By Maulana Wahiduddin Khan
راکھ کی گواہی دہلی کا ایک محلہ ہے جس کا نام نبی کریم ہے۔ یہاں ایک نوجوان مزدور اشوک نام کارہتا تھا۔ 5 ستمبر 1980 کو وہ اپنے گھر کے پاس مرا ہوا پایا گیا۔ اچانک دل کی حرکت بند ہونے کی وجہ سے اس کا انتقال ہو گیا۔ اس واقعہ کی کوئی رپورٹ پولیس میں درج نہ ہوسکی۔ اگلے دن اشوک کی لاش جمنا کے کنارے لے جائی گئی اور اس کو جلا کر دریا میں بہا دیا گیا۔ بظاہر معاملہ ختم ہو چکا تھا۔ اور اگر اس میں کوئی مجرمانہ سازش ہو تو اس کا پتہ لگانے کا کوئی امکان اب باقی نہیں رہا تھا۔ مگر جلائی ہوئی لاش کی راکھ کی راکھ نے وہ بات بتا دی جو معروف ذرائع نہیں بتا سکے۔ اشوک کی ماں چمیلی دیوی کو بعض وجوہ سے یہ شبہ ہوا کہ اشوک طبعی موت نہیں مرا ہے بلکہ اس کے ایک دوست سریش (26 سال) نے اس کو شراب میں زہر دے کر مارا ہے۔ ماں نے 7 ستمبر کو پولیس میں رپورٹ درج کرائی۔ پولیس کے لیے اب واحد صورت یہ باقی تھی کہ وہ مردہ کی راکھ حاصل کر کے اس کی چھان بین کرے۔ رپورٹ کے بعد اسی دن ایک پولیس پارٹی لاش جلانے والے گھاٹ پر پہنچی۔ یہ ستمبر کی سات تاریخ تھی۔ مگر خوش قسمتی سے شمشان بھومی کے مذکورہ پلیٹ فارم پر ابھی تک کوئی دوسری لاش نہیں جلائی گئی تھی۔ پولیس نے راکھ جمع کی اور اس جلی ہوئی راکھ کو سنٹرل فارنسک سائنس لیبارٹری (آر کے پورم) میں جانچ کے لیے بھیج دیا۔ وہاں سے چھ ماہ بعد 13 مارچ 1981 کو رپورٹ نے تصدیق کر دی کہ مرنے والا طبعی موت نہیں مرا بلکہ زہر کے سبب سے مرا ہے۔ 16 مارچ کو سریش کو قتل کے جرم میں گرفتار کر لیا گیا (ہندوستان ٹائمز، 17 مارچ 1981)۔ اخباری رپورٹر نے اس واقعہ کی روداد درج کرتے ہوئے یہ الفاظ لکھے ہیں ۔ مرے ہوئے آدمی کوئی بات نہیں بتاتے مگر ان کی جلی ہوئی راکھ بتا سکتی ہے:

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader