Urdu book · اللہ اکبر

روپیہ سے راکھ تک

Urdu book, p. 335

By Maulana Wahiduddin Khan

Dead men tell no tales, but their ashes may. انسان ظلم کرتا ہے اور ”ریکارڈ“ جلا کر سمجھتا ہے کہ اس نے اپنے عمل کا ثبوت مٹا دیا۔ وہ برائی کرتا ہے اور اپنی ہوشیاری اور طاقت سے اس پر پردہ ڈال کر یقین کر لیتا ہے کہ اس نے برائی کو ہمیشہ کے لیے چھپا دیا۔ مگر وہ بھول جاتا ہے کہ وہ اپنی بنائی ہوئی دنیا میں نہیں ہے بلکہ خدا کی بنائی ہوئی دنیا میں ہے۔ اور خدا نے اپنی دنیا کو اس طرح بنایا ہے کہ یہاں ہر عمل وجود میں آتے ہی کائناتی صفحہ پر اس طرح ثبت ہو جاتا ہے کہ اس کے بعد اس کو مٹانا کسی کے لیے ممکن نہیں رہتا۔ ہر آدمی عمل کرنے کے لیے آزاد ہے، مگر وہ اپنے عمل کا نشان مٹانے کے لیے آزاد نہیں۔ آدمی اگر اپنی اس بے بسی کو جان لے تو وہ ظلم اور برائی کے قریب بھی نہ جائے۔ انسان کا المیہ یہ جولائی کی ایک حسین صبح تھی۔ سورج ابھی نکلا نہیں تھا مگر آسمان کی وسعتوں میں اس کی پھیلتی ہوئی روشنی بتا رہی تھی کہ وہ جلد ہی نکلنے والا ہے۔ افق پر بادل کے ٹکڑوں کے پیچھے سے پھوٹنے والی سورج کی ابتدائی شعائیں عجیب رنگ برنگ منظر پیش کر رہی تھیں۔ درختوں کی سرسبزی، چڑیوں کے چہچہے اور صبح کی ہوا کے لطیف جھونکے ماحول کی رعنائی میں مزید اضافہ کر رہے تھے۔ میری زبان سے بے اختیار نکلا: خدا کی دنیا انتہائی حد تک با معنی ہے، مگر وہ اس وقت انتہائی حد تک بے معنی ہو جاتی ہے جب کہ اس کے ساتھ آخرت کو شامل نہ کیا جائے۔ دنیا بے حد لذیذ ہے مگر اس کی لذتیں چند لمحے سے زیادہ باقی نہیں رہتیں۔ دنیا بے پناہ حد تک حسین ہے مگر اس کو دیکھنے والی آنکھ بہت جلد بے نور ہو جاتی ہے۔ دنیا میں عزت اور خوشی حاصل کرنا انسان کو کتنا زیادہ مرغوب ہے مگر دنیا کی عزت اور خوشی آدمی ابھی پوری

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page