روپیہ سے راکھ تک
Urdu book, p. 336
By Maulana Wahiduddin Khan
طرح حاصل نہیں کر پاتا کہ اس پر زوال کا قانون جاری ہو جاتا ہے۔ دنیا میں وہ سب کچھ ہے جس کو انسان چاہتا ہے مگر اس سب کچھ کو حاصل کرنا انسان کے لیے ممکن نہیں، حتیٰ کہ اس خوش قسمت انسان کے لیے بھی نہیں جو بظاہر سب کچھ حاصل کر چکا ہو۔ انسان ایک کامل وجود ہے۔ مگر اس کا المیہ یہ ہے کہ اسی کے ساتھ وہ طرح طرح کی محدودیت کا شکار ہے اور بہت سے ناموافق حالات اس کو گھیرے ہوئے ہیں، انسان کی زندگی کامل زندگی ہونے کے باوجود اس وقت تک بے معنی ہے جب تک اس کو ایسی دنیا نہ ملے جو ہر قسم کی محدودیت اور ناموافق حالات سے پاک ہو۔ خدا نے یہ کامل اور ابدی دنیا جنت کی صورت میں بنائی ہے۔ مگر یہ دنیا کسی کو اپنے آپ نہیں مل سکتی۔ اس آنے والی مکمل دنیا کی قیمت موجودہ نامکمل دنیا ہے۔ جو شخص اپنی موجودہ دنیا کو آنے والی دنیا کے لیے قربان کر سکے وہی آنے والی جنتی دنیا کو پائے گا۔ جو شخص اس قربانی کے لیے تیار نہ ہو وہ بھی اگرچہ موت کے بعد ابدی دنیا میں داخل ہو گا۔ مگر اس کے لیے یہ ابدی دنیا حسرتوں اور مایوسیوں کی دنیا ہوگی نہ کہ خوشیوں اور لذتوں کی دنیا۔ موت کے آگے فرانس کے لوئی یا زدهم (1483-1423) نے ساٹھ سال تک بادشاہ کی حیثیت سے زندگی گزاری۔ وہ مرنا نہیں چاہتا تھا۔ چنانچہ آخر عمر میں وہ ایک بند قلعہ میں رہنے لگا جہاں بہت کم لوگوں کو داخلہ کی اجازت تھی۔ قلعہ کے چاروں طرف گہری خندق کھوددی گئی تھی تا کہ کوئی اس کے قریب نہ پہنچ سکے۔ قلعہ کی دیواروں پر ہر وقت چالیس تیر انداز بیٹھے رہتے تھے۔ اس کے علاوہ چالیس گھڑ سوار دن رات اس کے چاروں طرف گشت کرتے رہتے تھے۔ بادشاہ کا حکم تھا کہ جو بھی بلا اجازت قلعہ کے اندر آنے کی کوشش کرے اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader