Urdu book · اللہ اکبر

روپیہ سے راکھ تک

Urdu book, p. 337

By Maulana Wahiduddin Khan

کو پکڑ کر اسی وقت قتل کر دیا جائے۔ قلعہ کے اندر بادشاہ کے لیے ہر قسم کا عیش و عشرت کا سامان کیا گیا تھا تا کہ بادشاہ کا دل کبھی غمگین نہ ہونے پائے۔ لوئی یازدہم کو زندہ رہنے کا اتنا شوق تھا کہ اس نے حکم دے رکھا تھا کہ موت کا لفظ اس کے سامنے ہرگز نہ بولا جائے۔ ایک ماہر ڈاکٹر ہر آن بادشاہ کی خدمت میں حاضر رہتا تھا۔ اس ڈاکٹر کو دس ہزار سنہری کرا ون ماہوار دیے جاتے تھے۔ اس وقت یورپ کے کسی میدان جنگ میں چالیس سال کام کر کے بھی ایک فوجی افسر اتنی تنخواہ حاصل نہیں کر سکتا تھا۔ تا ہم ان میں سے کوئی چیز بادشاہ کو بڑھاپے اور کمزوری سے نہ بچا سکی۔ آخر عمر میں وہ اتنا کمزور ہو چکا تھا کہ مشکل سے وہ کھانے کی کوئی چیز اٹھا کر اپنے منہ میں ڈال سکتا تھا۔ اس کے باوجود اس کی جینے کی خواہش وہم کی حد تک پہنچ گئی تھی۔ اس کو کسی نے بتایا کہ کچھوے پانچ سو سال تک جیتے ہیں اور وہ زندگی بخش خواص کے مالک ہوتے ہیں۔ چنانچہ اس نے کچھ لوگوں کو تین بحری جہاز دے کر جرمنی اور اٹلی روانہ کیا تا کہ وہاں سے اس کے لیے بحری کچھوے لے آئیں ۔ یہ کچھوے اس کے قریب ایک بڑے حوض میں رکھے گئے تا کہ اس کو زندگی کا فیضان عطا کر سکیں۔ آخر کار لوئی پر فالج کا حملہ ہوا اور 30 اگست 1483 کو موت نے اس پر قابو پالیا۔ اس کو معلوم ہو گیا کہ کوئی شخص موت کو نہیں جیت سکتا۔ اس کی زبان سے جو آخری الفاظ مرنے سے پہلے نکلے وہ یہ تھے: ”میں اتنا بیمار تو نہیں ہوں جتنا آپ لوگ خیال کرتے ہیں۔“ تاہم اس کی تمام کوششیں بے کار ہوگئیں۔ 30 اگست 1483 کو وہ مر گیا ۔ آخر کار بادشاہ فرانس کو معلوم ہو گیا کہ کوئی شخص موت کو جیت نہیں سکتا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page