Urdu book · اللہ اکبر

روپیہ سے راکھ تک

Urdu book, p. 338

By Maulana Wahiduddin Khan

عقل مند کون انسان کو اس کے پیدا کرنے والے نے بہترین بناوٹ کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ مگر بڑھاپا آتا ہے اور اس کی بہترین بناوٹ کو کھا جاتا ہے۔ انسان کو اعلیٰ ترین لذتوں کا احساس دیا گیا ہے۔ مگر ہزار کوشش کے بعد جب وہ ان لذتوں کو پالیتا ہے تو اس کو معلوم ہوتا ہے کہ اپنی پیدائشی محدودیتوں (Limitations) کی وجہ سے وہ ان لذتوں سے لطف اندوز نہیں ہوسکتا۔ انسان کو ایک ایسی زمین دی گئی ہے جو اپنی حسین فضاؤں اور قیمتی سازوسامان کے ساتھ ساری کائنات میں ایک انتہائی نادر استثناء ہے مگر آدمی اس دنیا کو استعمال نہیں کرپاتا کہ موت آتی ہے اور اس کو اس کی پسند کی دنیا سے جدا کردیتی ہے۔ ایسا کیوں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ موجودہ دنیا ہماری اصل دنیا نہیں۔ اصل دنیا وہ ہے جو موت کے بعد آنے والی ہے۔ موجودہ دنیا اس آئندہ آنے والی دنیا کا ابتدائی تعارف ہے۔ یہ لذتوں کے اصل خزانہ کا لمحاتی تجربہ ہے۔ یہ ابدی بہشت کا صرف ایک وقتی مظاہرہ ہے۔ یہ اس لیے ہے کہ آدمی حال کے آئینہ میں مستقبل کے عظیم امکانات کو دیکھے۔ وہ ناقص فلاح میں کامل فلاح کا راز پالے۔ عقلمند انسان وہ ہے جس کو دنیا کا یہ وقتی تجربہ اس کو ابدی دنیا کی یاد دلاتے۔ وہ اپنے آپ کو زندگی کے آنے والے دور کے لیے تیار کرے ۔ وہ اپنی عمر کے موجودہ مرحلہ کو اس طرح استعمال کرے کہ وہ اس کے لیے عمر کے اگلے مرحلہ میں کامیابی کا زینہ بن جائے۔ اس کے برعکس، نادان وہ ہے جو وقتی اور فانی لذتوں میں گم ہوجائے ۔ جو ”آج “ میں مشغول ہوکر ” کل ‘‘ کو بھول جائے۔ ایسا آدمی اس نادان مسافر کی طرح ہے جو ریلوے اسٹیشن کی بنچ خالی پا کر اس پر سو جائے ۔ وہ اسی طرح بے خبر پڑا رہے ۔ یہاں تک کہ اس کی ٹرین اپنے وقت پر آئے اور اس کو لیے بغیر آگے چلی جائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page