روپیہ سے راکھ تک
Urdu book, p. 339
By Maulana Wahiduddin Khan
موجودہ دنیا آخرت کے سفر کا راستہ ہے۔ جس طرح ایک عام مسافر اس وقت اپنی منزل پر نہیں پہنچتا جب کہ وہ راستہ کی چیزوں میں کھوگیا ہو۔ اسی طرح جو شخص دنیا کی دل فریبیوں میں گم ہو جائے وہ کبھی آخرت کے اعلیٰ مقامات تک پہنچنے میں کامیاب نہیں ہوگا۔ وہ دنیا میں بھٹک کر رہ جائے گا اور بالآخر اس کے حصہ میں حسرت کے سوا اور کچھ نہیں آئے گا۔ ناکام موت مسٹر بی ڈی کھو بر اگاڑ (پیدائش 1925) 9 اپریل 1984 کو دہلی کے پنت اسپتال میں مرگئے۔ وہ ایک ہر جن لیڈر تھے۔ انھوں نے اپنی قوم کے ساتھ اونچی ذات والوں کے امتیازی سلوک کو دیکھا۔ ان کے اندر اس کے خلاف آگ بھڑک اٹھی۔ جب انہیں معلوم ہوا کہ اس امتیاز کی بنیاد خود اس ہندوستانی مذہب میں ہے جس سے وہ اب تک اپنے کو منسوب سمجھے ہوئے تھے تو انھوں نے مذہب کی تبدیلی کا فیصلہ کیا۔ ڈاکٹر مبید کر (1956-1891) اور لاکھوں دوسرے ہر جنوں کے ساتھ وہ بدھرم میں داخل ہوگئے۔ مگر اس کے باوجود ہر جنوں کے ساتھ سماجی امتیاز ختم نہیں ہوا۔ اب کھو بر اگاڑ اور ان کے ساتھیوں نے دوسری تدبیر کی۔ انھوں نے ری پبلکن پارٹی کے نام سے ایک سیاسی جماعت بنائی۔ انھوں نے چاہا کہ جو مسئلہ تبدیلی مذہب سے حل نہیں ہوا، اس کو تبدیلی حکومت کے ذریعہ حل کیا جائے ۔ مگر یہ اقدام بھی کامیاب نہیں ہوا۔ خود ری پبلکن پارٹی میں اندرونی اختلاف پیدا ہوگئے ۔ وہ کئی ٹکڑوں میں بٹ گئی۔ مایوس کھو بر اگاڑ 59 سال کی عمر میں اس دنیا سے چلے گئے۔ مسٹر کھو بر اگاڑ اپنی زندگی کے مسئلہ کا حل تلاش کرتے رہے جو 59 سال میں ختم ہو جانے والی تھی۔ آج اگر کوئی شخص ان سے پوچھے تو یقیناً وہ کہیں گے ۔ افسوس کہ میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader