Urdu book · اللہ اکبر

روپیہ سے راکھ تک

Urdu book, p. 340

By Maulana Wahiduddin Khan

وقتی زندگی کے مسائل میں الجھارہا اور اپنی اس زندگی کے لیے کچھ نہیں کیا جس سے ابدی سابقہ پیش آنے والا تھا۔ لوگ آج کے مسائل میں اتنا مشغول ہیں کہ انہیں کل کے مسائل پر سوچنے کی فرصت نہیں۔ وہ حال کے اندر اتنا گم ہیں کہ ان کو یہ پروا نہیں کہ وہ مستقبل کے بارے میں سوچیں۔ لوگ اسی طرح غفلت میں پڑے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ ان کی موت آجاتی ہے۔ انسانوں میں الجھا ہوا آدمی اچانک اپنے آپ کو خدا کے سامنے کھڑا ہوا پاتا ہے۔ دنیا کے مسائل کو سب کچھ سمجھنے والا آدمی وہاں پہنچا دیا جاتا ہے جہاں صرف آخرت کے مسائل کسی آدمی کے لیے سب کچھ ہوں گے۔ ظواہر کو اہمیت دینے والا آدمی اپنے آپ کو ایک ایسی دنیا میں پاتا ہے جہاں حقیقت کے سوا کسی چیز کی کوئی اہمیت نہیں۔ انسان کو دیکھیے تو وہ کتنا حیرت انگیز وجود معلوم ہوتا ہے۔ انسان کی صلاحیتیں اتنی عجیب ہیں کہ ساری کائنات میں اس سے زیادہ عجیب کوئی چیز نہیں۔ مگر کیسا درد ناک انجام انسان کے حصہ میں آیا ہے۔ کیسی قیمتی زندگی کیسے بے قیمت انجام پر ختم ہو جاتی ہے۔ مگر کوئی نہیں جو اس کو سوچے، کوئی نہیں جو زندگی کو با معنی بنانے کے لیے فکر مند ہو۔ کوئی بچانہ سکے گا مغربی ملکوں کے لوگ عام طور پر گائے کا گوشت کھانا بہت پسند کرتے ہیں۔ آج کل کے زمانہ میں مغرب کے لوگ کثرت سے ہندوستان آتے ہیں۔ یہ لوگ جب یہاں کسی ” فائیو اسٹار ہوٹل‘‘ میں ٹھہرتے ہیں تو وہ توقع رکھتے ہیں کہ ہوٹل کی طرف سے ان کو ان کی تمام مطلوب چیزیں فراہم کی جائیں گی جن میں اپنی پسند کی غذا بھی لازمی طور پر شامل ہے۔ چنانچہ ہوٹل والے اپنے بیرونی گاہکوں کے سامنے جو مینو کارڈ پیش کرتے ہیں ان کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page