روپیہ سے راکھ تک
Urdu book, p. 341
By Maulana Wahiduddin Khan
غذائی فہرست میں گائے کا گوشت (Beef steak) کا لفظ شامل رہتا ہے۔ چوں کہ ہندوستان میں گائے کا گوشت ممنوع ہے، اس کی خبر اخبار میں چھپی تو اس پر سخت تنقید ہوئی۔ ایک ایم پی نے پارلیمنٹ میں اس پر سوال کر دیا۔ حکومت ہند نے اس سلسلے میں ہوٹل والوں سے باز پرس کی۔ ہوٹل والوں کا جواب یہ تھا کہ ہم اپنے گا کو ہوں کو“ بیف“ دیتے ہیں اور بیف انگریزی ڈکشنری کے مطابق گائے اور بھینس دونوں کے گوشت کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اخباری رپورٹ (ٹائمس آف انڈیا، 5 مئی 1984) کے مطابق حکومت ہند کے وزیر سیاحت نے 4 مئی 1984 کو پارلیمنٹ میں بیان دیا۔ انھوں نے آکسفورڈ ڈکشنری میں اس لفظ کے معنی پڑھ کر سنائے جس میں بھینس کا گوشت بھی شامل تھا نہ کہ صرف گائے یا بیل کا گوشت : The minister read out Oxford dictionary meaning of "beef" which included the flesh of buffalo as well, and not, merely that of cow or OX. اس خبر پر اخبار نے یہ سرخی لگائی ہے : ڈکشنری نے فائیو اسٹار ہوٹل کو بچالیا“۔ موجودہ دنیا میں اس قسم کے واقعات دیکھ کر آدمی غلط فہمی میں پڑ جاتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ موت کے بعد کی دنیا بھی ویسی ہی ایک دنیا ہوگی جیسی موت سے پہلے کی دنیا۔ جس طرح ”ڈکشنری“ موجودہ دنیا میں ہم کو بچالیتی ہے، اسی طرح وہاں بھی ہم کوئی نہ کوئی ڈکشنری پالیں گے جو ہم کو وہاں کی آفتوں سے بچالے۔ مگر اس سے بڑی بھول اور کوئی نہیں۔ موجودہ دنیا میں آدمی کا معاملہ اپنے جیسے انسان سے ہے اس لیے وہ لفظی کرتَب دکھا کر اس سے بچ جاتا ہے۔ مگر آخرت میں اس کا معاملہ مالک کائنات سے ہوگا۔ اور مالک کائنات کے سامنے کسی قسم کا کوئی کرتَب کام آنے والا نہیں۔ آخرت کی دنیا میں حقیقی تدبیر آدمی کو بچائے گی نہ کہ کوئی لفظی تدبیر۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader