Urdu book · اللہ اکبر

روپیہ سے راکھ تک

Urdu book, p. 342

By Maulana Wahiduddin Khan

رات کے بعد دن كَلَّا وَالْقَمَرِ - وَاللَّيْلِ إِذْ أَدْبَرَ - وَالصُّبْحِ إِذَا أَسْفَرَ - إِنَّهَا لَإِحْدَى الْكُبَرِ - نَذِيرًا لِلْبَشَرِ - لِمَنْ شَاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَتَقَدَّمَ أَوْ يَتَأَخَّرَ كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ رَهِينَةٌ (32-38: 74) ۔ یعنی قسم ہے چاند کی اور رات کی جب وہ جانے لگے اور صبح کی قسم جب وہ روشن ہو جائے ۔ وہ دوزخ بڑی بھاری چیز ہے جو انسان کے لیے بڑاڈرراوا ہے، تم میں سے ہر اس آدمی کے لیے جو آگے بڑھنا چاہے یا پیچھے رہ جانا چاہے ہر آدمی اپنے کیے میں پھنسا ہوا ہے ۔ زمین پر ہر روز ایسا ہوتا ہے کہ یہاں رات آتی ہے اور زمین گہری تاریکی میں ڈوب جاتی ہے ۔ اس کے بعد دن نکلتا ہے اور ہر چیز دوبارہ سورج کی روشنی میں دکھائی دینے لگتی ہے ۔ یہ واقعہ آخرت کے معاملہ کی تمثیل ہے۔ موجودہ دنیا میں آدمی کی اصل حقیقت چھپی ہوئی ہے، آخرت میں ہر آدمی کی حقیقت کھل کر سامنے آجائے گی۔ آج ہماری زندگی ” رات“ کے دور سے گزر رہی ہے، موت کے بعد ہم ”دن“ کے دور میں پہنچ جائیں گے۔ آج آدمی ایک قسم کے پردہ میں ہے۔ وہ دلیل پر قائم نہ ہونے کے باوجود خوش نما الفاظ بول کر لوگوں کو اپنے بارے میں غلط فہمی میں ڈالے ہوئے ہے۔ کسی کی دنیوی شہرت ومقبولیت اس کی مجرمانہ حیثیت کے لیے پردہ بن گئی ہے۔ کسی کے دولت واقتدار نے اس کو موقع دیا ہے کہ وہ حقیقت کے اعتبار سے مفلس ہونے کے باوجود مادی رونقوں میں اپنے معنوی افلاس کو ڈھانک سکے۔ کوئی اندر سے بے دین ہے مگر کچھ رسمی اعمال کا اہتمام کرکے ظاہر کر رہا ہے کہ وہ خدا پرست اور دیندار ہے۔ لوگ ظلم اور بے انصافی میں جی رہے ہیں مگر اپنی نمائشی تدبیروں سے وہ عوام کو اس دھو کے میں ڈالے ہوئے ہیں کہ وہ عین حق وانصاف پر قائم ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page