Urdu book · اللہ اکبر

روپیہ سے راکھ تک

Urdu book, p. 343

By Maulana Wahiduddin Khan

مگر جب آخرت کا سورج طلوع ہوگا تو وہ تاریکی کے ان تمام پردوں کو پھاڑ دے گا۔ اس وقت ہر آدمی اپنی اصلی صورت میں دکھائی دینے لگے گا۔ اس وقت صاف نظر آئے گا کہ کون شخص اندر سے جانور تھا اور بظاہر انسانی صورت میں چل رہا تھا۔ کون شخص ناحق پر تھا اگرچہ وہ خوبصورت الفاظ بول کر اپنے کو حق پرست ثابت کیے ہوئے تھا۔ کون شخص اللہ کے سوا دوسروں کی پرستش میں مبتلا تھا اگرچہ زبان سے وہ اللہ کا نام لیتے ہوئے تھکتا تھا۔ اس کے مقابلہ میں کچھ اور لوگ ہوں گے جن کی حقیقت آخرت کے دن لوگوں کے سامنے آئے گی۔ وہ دیکھیں گے کہ ایک شخص جس کو انھوں نے اس کے معمولی حالات کی بنا پر غیر اہم سمجھ لیا تھا وہ اپنے اندر اہمیت کا پہاڑ لیے ہوئے تھا۔ ایک شخص جس کو دنیا کی پررونق مجلسوں میں کہیں عزت کی جگہ نہیں ملتی تھی وہ فرشتوں کی زیادہ باعزت مجالس میں اپنے صبح وشام کے اوقات گزار رہا تھا۔ ایک شخص جس کو وقت کے بڑوں نے اپنے نزدیک رد کر دیا تھا وہی وہ شخص تھا جس کو خدا کی طرف سے مقبولیت کی سند ملی ہوئی تھی۔ ایک شخص جس کو دنیا کے لوگ بے دین قرار دے کر حقارت کے خانہ میں ڈالے ہوئے تھے اس کا نام خدا کے یہاں دین داروں کی فہرست میں سب سے اوپر لکھا ہوا تھا۔ سب سے بڑا فریب ایک نوجوان نے سی اے کا کورس کیا۔ اس کے بعد امریکا سے ایم بی اے کی ڈگری لی۔ دونوں امتحانوں میں وہ فرسٹ آئے۔ اس کے بعد ان کے لیے ترقیات کے دروازے کھل گئے۔ وہ عرب امارات گئے۔ وہاں ان کو پانچ ہزار درہم ماہوار کی ملازمت مل گئی۔ جلد ہی بعد انہیں ایک سعودی وفد نے انٹرویو کے لیے بلایا۔ انٹرویو کامیاب رہا۔ فوراً ہی ان کو عرب میں ایک جگہ مل گئی جہاں ان کی تنخواہ 15 ہزار ریال ماہوار تھی۔ وہ اسی طرح ترقی کرتے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page