Urdu book · اللہ اکبر

روپیہ سے راکھ تک

Urdu book, p. 344

By Maulana Wahiduddin Khan

رہے یہاں تک کہ ان کی آمدنی ہندوستانی سکہ میں ایک لاکھ روپیہ ماہوار تک پہنچ گئی۔ ترقی کے یہ مواقع جو موجودہ زمانہ میں کھلے ہیں وہ وقت کا سب سے بڑا فتنہ ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آدمی جھوٹی بنیادوں پر اپنے کو "فرسٹ کلاس" سمجھتا ہے۔ حالاں کہ حقیقت کے اعتبار سے وہ "تھرڈ کلاس" ہوتا ہے۔ وہ جھوٹی بنیادوں پر اپنے کو کامیاب سمجھتا ہے، حالاں کہ وہ کامیابی کی منزل سے بہت دور ہوتا ہے۔ موجودہ زمانہ کے ان امکانات نے بہت سے لوگوں کو یہ موقع دیا ہے کہ وہ اپنے آپ کو ایسے ماحول میں پائیں جہاں ان کے رہنے کے لیے سجے ہوئے مکانات ہوں۔ سفر کے لیے شاندار گاڑیاں ہوں۔ بینک بیلنس ہو۔ ان کی جیب میں کریڈٹ کارڈ ہو جس کے ذریعے وہ دنیا کے کسی بھی حصہ میں اپنے لیے حسب منشاء رقم حاصل کر سکیں۔ یہ چیزیں جدید انسان کے لیے زبر دست فتنہ بن گئی ہیں۔ ہر آدمی اپنے آپ کو مادیت کے وقتی بازار میں فروخت کر رہا ہے۔ ہر آدمی کامیابی کے جھوٹے فریب میں مبتلا ہے۔ ہر آدمی فرضی خوش خیالیوں کا ایک محل اپنے گرد بنائے ہوئے ہے۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے ان چیزوں کی کوئی قیمت نہیں۔ امریکی وفاداری کا تمغہ روس میں بے قیمت ہوتا ہے۔ اسی طرح موجودہ دنیا کی مہارتیں آخرت میں بالکل بے وزن قرار پائیں گی۔ آہ وہ انسان جو جھوٹے فریب میں جی رہا ہے۔ اس کے باوجود وہ سمجھتا ہے کہ وہ حقیقت کے پہاڑ پر اپنا محفوظ قلعہ بنائے ہوئے ہے۔ آخرت کے بغیر ارنسٹ ہیمنگوے (1961-1899) ایک امریکی فوجی تھا۔ وہ 1961 میں انتقال کر گیا۔ وہ 1918 میں اٹلی کی جنگ میں شریک تھا۔ اس نے اپنی فوجی زندگی کے درمیان جو خطوط لکھے تھے وہ کتابی صورت میں شائع کر دیے گئے ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page