Urdu book · اللہ اکبر

روپیہ سے راکھ تک

Urdu book, p. 345

By Maulana Wahiduddin Khan

اٹلی کی جنگ میں جب وہ زخمی ہو گیا تو اس نے اسپتال سے اپنے گھر والوں کے نام کچھ خطوط لکھے ان میں سے ایک خط میں حسب ذیل الفاظ درج تھے: اس جنگ میں کوئی ہیر و نہیں۔ تمام ہیرو مر چکے ہیں اور اصل ہیرو ان کے والدین ہیں، ایک ہزار گنا زیادہ مصیبت اٹھاتے ہیں۔ اور یہ کتنا اچھا ہے کہ جوانی کے پر کیف زمانہ میں آدمی کی موت آجائے ۔ روشن شعلہ میں داخل ہونا اس سے بہتر ہے کہ تمہارا جسم بوڑھا اور فرسودہ ہو جائے اور سارے فریب منتشر ہو چکے ہوں (لائف، جون 1981)۔ ان الفاظ کے پیچھے زندگی کا کتنا مایوس تصور چھپا ہوا ہے۔ ایک شخص دیکھتا ہے کہ جو آدمی اس دنیا میں پیدا ہوتا ہے اس کا آخری انجام یہ ہے کہ سو سال یا اس سے کم مدت میں وہ بوڑھا اور ناکارہ ہو کر مر جائے۔ وہ سوچتا ہے کہ اگر زندگی بالآخر اسی کا نام ہے تو اس سے بہتر ہے کہ جوانی کے امید بھرے دور میں آدمی ہیروانہ اقدام کر کے اپنا خاتمہ کرلے۔ زندگی کو آخرت کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے تو بوڑھا ہو کر مرنا بھی با معنی ہو جاتا ہے اور روشن شعلہ میں داخل ہونا بھی۔ مگر جب ایک شخص زندگی کو آخرت سے الگ کر کے دیکھتا ہے تو اس کو اپنے چاروں طرف مایوسی کے سوا اور کچھ نظر نہیں آتا۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر آخرت کے تصور کو شامل نہ کیا جائے تو موجودہ زندگی اپنی تمام معنویت کھو دیتی ہے۔ اس کے بعد اتنی نا قابل فہم ہو جاتی ہے کہ اس دنیا میں زندہ رہنا بھی آدمی کو بے معنی نظر آنے لگے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page