روپیہ سے راکھ تک
Urdu book, p. 346
By Maulana Wahiduddin Khan
جاننے کے بعد پروفیسر مجیب (1985-1902) ہندوستان کے چوٹی کے دانشوروں میں سے تھے۔ ان کی تعلیم خالص مغربی طرز کے اداروں میں ہوئی۔ انہیں شیکپیئر کے ڈراموں کے بڑے بڑے حصے زبانی یاد تھے ۔ ہندوستان میں تعلیم کے بعد بیرونی ملکوں میں مزید تعلیم کے لیے گئے۔ وہ ایک خوش فکر آدمی تھے۔ وہ اپنے کسی ساتھی کو رنجیدہ دیکھتے تو کہتے کہ بھی مسکرائیے اور دور تک دیکھیے۔ وہ اردو انگریزی، فرانسیسی ، جرمن اور روسی زبانیں یکساں طور پر جانتے تھے۔ دسمبر 1972 میں پروفیسر مجیب بیمار ہوئے۔ ڈاکٹروں کی تشخیص کے مطابق ان کے دماغ کا آپریشن ہوا۔ آپریشن کامیاب ہوا مگر اس کے بعد ان کا حافظہ جاتا رہا۔ پروفیسر مجیب پانچ زبانوں کے ماہر تھے مگر آپریشن کے بعد وہ تمام زبانیں بھول گئے۔ حتیٰ کہ اردو سمیت تمام زبانوں کے حروف تہجی تک انہیں یاد نہ رہے (جامعہ، دسمبر 1984 )۔ دس سال سے زیادہ عرصہ تک وہ اسی حال میں اپنے اوکھلا (دہلی) کے مکان میں پڑے رہے۔ یہاں تک کہ 20 جنوری 1985 کو ان کا انتقال ہو گیا جب کہ ان کی عمر 82 سال ہو چکی تھی۔ وہ 1948 سے 1973 تک جامعہ اسلامیہ کے وائس چانسلر رہے۔ قرآن میں انسان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ۔ اللہ نے تم کو پیدا کیا۔ پھر وہ تم کو موت دیتا ہے۔ اور تم میں سے بعض وہ ہیں جو نا کارہ عمر تک پہنچ جاتے ہیں کہ جاننے کے بعد پھر کچھ نہ جانیں ۔ بے شک اللہ علیم و قدیر ہے (16:70)۔ جوانی کے بعد بڑھاپا آنے کا واقعہ آدمی کے لیے ایک یاد دہانی ہے۔ وہ اس لیے ہوتا ہے کہ آدمی اپنی اصل حقیقت کو جانے ۔ وہ جانے کہ اس کا علم ذاتی نہیں ہے۔ بلکہ وہ دوسرے کا دیا ہوا ہے۔ وہ جب چاہے دے اور جب چاہے چھین لے۔ آدمی کی قوت اگر اس کی ذاتی ہو تو وہ کبھی اس سے نہ چھنے ۔ مگر قوت کا ملنا اور پھر اس کا چھن جانا اس بات کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader