Urdu book · اللہ اکبر

روپیہ سے راکھ تک

Urdu book, p. 347

By Maulana Wahiduddin Khan

علامت ہے کہ انسان دئے سے پاتا ہے۔ دینے والا گر نہ دے تو وہ خود سے نہیں پاسکتا۔ یہ واقعہ ہر روز پیش آتا ہے مگر نہ بوڑھے اس سے نصیحت لیتے ہیں جن پر یہ واقعہ گزرتا ہے اور نہ جوان اس سے سبق حاصل کرتے ہیں جو اس کو اپنے سامنے ہوتا دیکھتے ہیں۔ آزمائش کا قانون کوئی آدمی حقیقی معنوں میں مومن اور مسلم ہے یا نہیں ، اس کا فیصلہ فتنہ (آزمائش) کے ذریعہ ہوتا ہے۔ اللہ کو اگر چہ ہر ایک کے دل کا حال معلوم ہے مگر اللہ کی سنت یہ ہے کہ آزمائش کے حالات پیدا کر کے ہر آدمی کے اندر کو باہر لایا جائے تا کہ اللہ آخرت میں اس کے بارے میں جو فیصلہ کرے اس سے انکار کی مجال کسی کو نہ ہو۔ آزمائش کا مطلب ایسی صورت حال آدمی کے سامنے لانا ہے جہاں حسن عمل کے تمام اضافی اسباب حذف ہو گئے ہوں، صرف ایک ہی سبب (اللہ کا ڈر) باقی رہ گیا ہو۔ اسی لیے معمول کے حالات یا روز مرہ کے عمل میں آدمی کی آزمائش نہیں ہوسکتی۔ آزمائش کے لیے ضروری ہے کہ غیر معمولی حالات سامنے لائے جائیں۔ اگر یہ دیکھنا ہو کہ آپ خوش اخلاق ہیں یا نہیں ، تو اس کا تجربہ ایک ایسے آدمی کے ذریعہ نہیں کیا جاسکتا جو آپ سے نیاز مندی کی باتیں کر تا ہو۔ کیوں کہ نیاز مندی دکھانے والے کے ساتھ تو ہر آدمی خوش اخلاقی ہی کے ساتھ پیش آتا ہے۔ اسی طرح اس کا تجربہ ایک طاقتور آدمی کے ذریعہ بھی نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ طاقتور شخصیت کے سامنے ہر آدمی خوش اخلاق بن جاتا ہے۔ کسی کی خوش اخلاقی کو جانچنے کا ذریعہ ایک ایسا شخص ہی بن سکتا ہے جو کمزور اور معمولی آدمی ہو اور اسی کے ساتھ وہ ایسے انداز میں کلام کرے جونا گواری پیدا کرنے والا ہو۔ اسی طرح کسی کی انسانیت دوست کی جانچ اس طرح نہیں ہوسکتی کہ ایک شان دار اجلاس کیا جائے اور اس کے بعد اس آدمی سے کہا جائے کہ سجے ہوئے اسٹیج پر کھڑے ہو کر تم انسانیت کے موضوع پر ایک تقریر کرو۔ کسی کی انسانیت دوستی کی جانچ اس وقت ہوتی ہے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page