Urdu book · اللہ اکبر

روپیہ سے راکھ تک

Urdu book, p. 348

By Maulana Wahiduddin Khan

جب ایک بے قیمت آدمی اس کے دروازے پر پہنچتا ہے اور اس سے کہتا ہے کہ میں فلاں مصیبت میں پھنس گیا ہوں تم انسانیت کے ناتے میری مدد کرو۔ کوئی شخص فیاض ہے یا نہیں اس کا اندازہ اس وقت نہیں ہوتا جب ایک شان دار موقع سامنے آئے اور اس میں پیسہ دے کر لوگ آناً فاناً شہرت و عزت کی منزلیں طے کر رہے ہوں۔ آدمی کی فیاضی کا امتحان اس وقت ہوتا ہے جب اس کو ایک ایسی خاموش مدد میں پیسہ دینا ہو جس میں اخباری شہرت کا کوئی موقع نہیں۔ کسی شخص کے انصاف کا حال اس وقت معلوم نہیں ہوتا جب کہ متعلقہ فریق سے تعلقات خوش گوار ہوں بلکہ آدمی کی انصاف پسندی یا بے انصافی اس وقت کھلتی ہے جب کہ دونوں فریقوں کے درمیان تلخی پیدا ہو گئی اور انصاف کرنا بظاہر اپنے حریف کو فائدہ پہنچانے کے ہم معنی بن گیا ہو۔ آدمی اللہ سے ڈرتا ہے یا نہیں اس کا حقیقی اندازہ ان اعمال میں نہیں ہوتا جو آدمی انسانوں سے دور تسبیح و نوافل کی صورت میں کرتا ہے۔ اس کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب کہ اس کا سابقہ انسانوں سے پڑے اور ایک شخص کے معاملہ میں اللہ سے ڈرنا اس قیمت پر ہو کہ آدمی اپنی انا کو کچلے اور اپنی مصلحتوں کو برباد کرے ۔ آدمی معمول کے حالات میں خدا پرستی والے عمل کرتا ہے۔ مگر خدا جب غیر معمولی مواقع پیدا کر کے اس کی خدا پرستی کو جانچنا چاہتا ہے تو عین اس وقت وہ خدا پرستی کا ثبوت دینے میں ناکام ہو جاتا ہے۔ موت جب آتی ہے جے۔ اے دیو 1923ء میں شملہ میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے نہایت محنت سے تعلیم حاصل کی۔ بالآخر انھوں نے آئی۔ اے ۔ ایس کا امتحان پاس کیا وہ مزید تعلیم کے لیے برطانیہ بھی گئے۔ اس کے بعد ان کو حکومت میں اچھی ملازمت مل گئی۔ جولائی 1979 میں وہ اپنی اعلیٰ ترین ترقی کے منصب پر پہنچ گئے جب کہ ان کو ڈیفنس سکریٹری کے عہدہ پر مقرر کیا گیا۔ مگر اس ترقی پر ان کو ایک سال بھی نہیں گزرا تھا کہ 10 اپریل 1980 کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page