Urdu book · اللہ اکبر

روپیہ سے راکھ تک

Urdu book, p. 349

By Maulana Wahiduddin Khan

57 سال کی عمر میں ان کا انتقال ہو گیا ۔ 11 اپریل کو مسٹرڈیو کا جسم نگم بودھ گھاٹ پر اس وقت جلادیا گیا جب کہ ہندوستانی فوج کے تینوں سپہ سالاران کے اظہار عقیدت کے لیے گھاٹ پر موجود تھے۔ بری اور بحری اور ہوائی فوجوں کے اعلیٰ ترین افسران جو ساٹھ کروڑ انسانوں کے اس ملک پر کسی بھی حملہ کو پسپا کرنے کی پوری طاقت رکھتے تھے وہ اپنے حاکم اعلیٰ کو موت کے حملہ کا شکار ہونے سے بچانے کے لیے بے بس ہو گئے۔ 1980 میں مرکزی پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات میں اندر اگاندھی اور ان کے بیٹے سنجے گاندھی کی پارٹی کو غیر معمولی کامیابی حاصل ہوئی۔ اس کے بعد عام طور پر سمجھا جانے لگا کہ اب سنجے گاندھی ہندوستان کے وزیر اعظم ہوں گے۔ مگر وزارت عظمیٰ کی عین چوکھٹ پر پہنچ کر اچانک 33 سال کی عمر میں ان کا خاتمہ ہو گیا۔ 23 جون 1980 کی صبح کو سنجے گاندھی ایک نئے امریکی ہوائی جہاز میں تفریحی سواری (Joy Ride) کے لیے نکلے۔ ان کا دو سیٹوں کا جہاز صفدر جنگ کے ہوائی اڈے سے اڑ کر ابھی فضا میں پہنچا ہی تھا کہ اچانک اس کے انجن نے کام کرنا بند کر دیا اور دھماکہ کے ساتھ زمین پر گر پڑا۔ جہاز کے ملبہ سے اس کے دونوں مسافر (سنجے گاندھی اور کیپٹن سکسینا) مردہ اور کچی ہوئی حالت میں باہر نکالے گئے۔ سنجے گاندھی کو اپنے اوپر اتنا اعتماد تھا کہ حادثہ سے صرف ایک دن پہلے دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر مسٹر جگ موہن کے ساتھ کار پر سفر کرتے ہوئے انھوں نے کہا تھا : ’’پریشانی کی کوئی بات نہیں۔ کار ہو یا ہوائی جہاز، دھمیل پراگر میں ہوں تو کچھ نہیں ہوگا‘‘۔ ان کو یہ معلوم نہ تھا کہ اگلے دن آنے والی صبح صرف اس لیے آ رہی ہے کہ ان کے اس اعتماد کی ہمیشہ کے لیے تردید کر دے۔ ٹائمس آف انڈیا (24 جون 1980) نے ان شاندار امکانات کا ذکر کیا ہے جن کے بالکل کنارے سنجے گاندھی پہنچ چکے تھے۔ اس کے بعد وہ لکھتا ہے: What an irony that he should die so soon afterwards. عین اس وقت جب کہ آدمی اپنی ترقی کے عروج پر پہنچ چکا ہوتا ہے، موت اس کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page