محبت کا نذرانہ
Urdu book, p. 34
By Maulana Wahiduddin Khan
آدمی اپنی فطرت اور اپنے حالات کے لحاظ سے ایک ایسی مخلوق ہے جو ہمیشہ خارجی سہارا چاہتا ہے ایک ایسی ہستی جو اس کی کمیوں کی تلافی کرے۔ اور اس کے لیے اعتماد و یقین کی بنیاد ہو، کسی کو اس حیثیت سے اپنی زندگی میں شامل کرنا اس کو معبود بنانا ہے۔ جب آدمی کسی ہستی کو اپنا معبود بناتا ہے تو اس کے بعد لازمی طور پر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کی محبت اور عقیدت کے جذبات اس کے لیے خاص ہو جاتے ہیں۔ آدمی عین اپنی فطرت کے لحاظ سے مجبور ہے کہ وہ کسی سے حب شدید کرے اور جس سے کوئی شخص حب شدید کرے وہی اس کا معبود ہے۔ موجودہ دنیا میں چوں کہ خدا نظر نہیں آتا اس لیے ظاہر پرست انسان عام طور پر نظر آنے والی ہستیوں میں سے کسی ہستی کو وہ مقام دے دیتا ہے جو دراصل خدا کو دینا چاہیے۔ یہ ہستیاں اکثر وہ سردار یا پیشوا ہوتے ہیں جن کو آدمی بڑا“ سمجھ لیتا ہے اور پھر وہ دھیرے دھیرے لوگوں کی توجہات کا مرکز بن جاتے ہیں۔ لوگ اس طرح ان کے گرویدہ ہو جاتے ہیں جیسا گرویدہ انہیں صرف خدا کا ہونا چاہیے۔ آدمی کی فطرت کا خلا جو حقیقۃً اس لیے تھا کہ اس کو خدا سے پُر کیا جائے وہاں کسی غیر خدا کو بٹھا لیا جاتا ہے۔ انسان کے پاس کسی کو دینے کے لیے جو سب سے بڑی چیز ہے وہ محبت ہے۔ ایسی حالت میں یہ ممکن نہیں کہ کوئی شخص خدا جیسی باکمال ہستی کو پائے اور اس کی خدمت میں محبت سے کم تر درجہ کی کوئی چیز پیش کرے۔ محبت سے کم کوئی چیز نہ تو خدا قبول کرتا اور نہ کسی انسان کے لیے جائز ہے کہ وہ خدا کے حضور میں محبت سے کم کسی چیز کا نذرانہ پیش کرے۔ اپنی چیزوں میں کم تر چیز کا ہدیہ خدا کو پیش کرنا صرف اس بات کا ثبوت ہے کہ آدمی نے خدا کو اس کے جلال و کمال کے ساتھ پایا ہی نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader