محبت کا نذرانہ
Urdu book, p. 35
By Maulana Wahiduddin Khan
قیمت جو ادا نہیں کی گئی بائبل میں ہے ”میں نے بانسری بجائی، تو نے رقص نہ کیا، (متی، 17: 11)۔ کائنات ایک عظیم نمائش گاہ ہے۔ وہ قدرت اور حکمت اور معنویت کا ایک اتھاہ کارخانہ ہے۔ وہ اس قدر حسین ہے کہ اس کے حسن کو کسی بھی طرح لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ کائنات اپنے تمام جلووں کے ساتھ خدا کی ابدی طرب گاہ ہے۔ تاہم معلوم کائنات میں صرف انسان ہی وہ مخلوق ہے جو اس طرب گاہ کو سمجھ سکتا ہے اور اس کو دیکھ کر اس کے جمال وکمال پر رقص کر سکتا ہے۔ مگر وہی واحد مخلوق جس کو خدا نے اپنے دست خاص سے اس لیے بنایا تھا کہ وہ کائنات کی بے پناہ فن کاریوں کو دیکھے اور اس سے بے خود ہو کر رقص کرنے لگے ، وہی سب سے زیادہ اس سے اعراض کرتا ہے۔ انسان سب کچھ کرتا ہے مگر وہی کام نہیں کرتا جس کو اسے سب سے زیادہ کرنا چاہیے۔ تمام مخلوقات میں صرف انسان کو اس قسم کا احساس و شعور دینا ظاہر کرتا ہے کہ انسان سے اس کے خدا کو کیا مطلوب ہے۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ خدا کے ”طرب پر رقص کرے“۔ وہ کائنات میں خدا کے کرشموں کو اس طرح پالے کہ اس پر وجد کی سی کیفیت طاری ہو جائے۔ وہ بے اختیار پکار اٹھے: فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ (14: 23)۔ یعنی ، کیسی بڑی شان ہے اللہ کی جو سب سے بہتر بنانے والا ہے۔ انسان کی اصل قیمت یہی ہے۔ اگر وہ ایسا نہ کرے تو گویا وہ اس کائنات میں اپنے آپ کو بے قیمت کر رہا ہے۔ وہ اپنے وجود کو بے معنی بنا رہا۔ خدا نے ایک عظیم آفاقی اسٹیج بنایا اور اس میں اپنے بہترین جلووں کے ساتھ ظاہر ہوا اور یہ سب کچھ جس کے لیے کیا گیا وہ وہی تھا جس کو انسان کہا جاتا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader