محبت کا نذرانہ
Urdu book, p. 36
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے۔ ایسی حالت میں انسان اگر اس کی طرف سے آنکھیں بند کرلے، اگر اس کی طرف سے حمد کا ظہور نہ ہو تو یہ اتنا بڑا جرم ہے کہ اس کی جو سزا بھی دی جائے وہ کم ہوگی۔ خدا کی دنیا بے حد حسین ہے۔ وہ جنت کی فضاؤں سے بھری ہوئی ہے۔ وہ خدا کے جمال و کمال کا آئینہ ہے۔ مگر انسان اس کے حسن کو دیکھ نہیں پاتا۔ انسان کے ذہنی سائے نے اس کو ڈھانپ رکھا ہے۔ کائنات کو اس کے جنتی روپ میں دیکھنے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی اپنے بنائے ہوئے جھوٹے خول سے باہر آئے۔ وہ ”انسانی دنیا“ سے اوپر اٹھ کر خدائی دنیا میں جھانک سکے۔ انسان اپنے خول سے باہر نکلنے پر تیار نہیں ہوتا، اس لیے وہ خدا کی دنیا کو دیکھ بھی نہیں پاتا۔ وہی انسان انسان ہے جو تمام دیکھی جانے والی چیزوں سے زیادہ کائنات کو دیکھے۔ کائنات کے آئینہ میں اس کو خدا کا جلوہ نظر آنے لگے جب کسی بندہ خدا پر یہ تجربہ گزرتا ہے تو اس کا وہ حال ہوتا ہے جس کو انسانی لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ اس کی زبان خدا کی حمد وثنا میں تر رہنے لگتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ خدا کے نور میں ڈوب جاتا ہے۔ اس کے الفاظ جواب دینے لگتے ہیں۔ اس کا شدتِ احساس آنکھوں کی راہ سے بہہ نکلتا ہے۔ خدا کی خدائی کے اعتراف میں اس کا پورا وجود خاکستر ہو جاتا ہے۔ انسان اپنے آپ میں اتنا مشغول ہے کہ اس کو خدا کی خدائی کی خبر نہیں۔ وہ اپنی "مصنوعات" میں اتنا الجھا ہوا ہے کہ اس کو خدا کی مصنوعات دکھائی نہیں دیتیں۔ وہ اپنے جلووں میں اتنا گم ہے کہ اس کو خدا کے جلوے نظر نہیں آتے۔ انسان کی سب سے بڑی محرومی یہی ہے اور جو شخص دنیا میں محروم ہو وہ آخرت میں پانے والا کس طرح بن سکتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader