زندگی کا پیچ
Urdu book, p. 361
By Maulana Wahiduddin Khan
محکمہ پولیس کے افسران کے علم میں یہ واقعہ آیا تو وہ شیخ محبوب اور ایس ایم رشید کی کارکردگی اور دیانت داری سے بہت خوش ہوئے اس کے بعد دونوں کو نقد انعامات دئے گئے اور اسی کے ساتھ دونوں کو ترقی بھی دے دی گئی۔ شیخ محبوب کو اسٹیشن آفیسر کے عہدہ پر متعین کر دیا گیا اور ایس ایم رشید کو ہیڈ کانسٹیبل بنا دیا گیا۔ یہ ایک مثال ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کس طرح ایک واقعہ بیک وقت دو آدمیوں کے لیے دومعنی کا حامل ہوتا ہے۔ ایک واقعہ پیش آتا ہے مگر اسی ایک واقعہ سے ایک شخص کو کریڈٹ دیا جاتا ہے اور دوسرے شخص کو ڈسکر یڈٹ کیا جاتا ہے۔ ایک شخص کو قاتل ثابت کر کے مجرم کے خانہ میں ڈال دیا جاتا ہے اور دوسرے شخص کو ایماندار اور فرض شناس ظاہر کر کے انعام کا مستحق بنا دیا جاتا ہے۔ دنیا میں جتنے واقعات پیش آتے ہیں سب کی نوعیت یہی ہے۔ یہاں کسی کے پاس کوئی اختیار نہیں ۔ یہاں کوئی شخص کسی کو نہ فائدہ پہنچا سکتا اور نہ نقصان ۔ نہ کوئی کسی کو زندگی دے سکتا اور نہ موت۔ تاہم یہ سارے واقعات یہاں ایک یا دوسرے کے ہاتھ سے پیش آتے ہیں۔ دنیا ایک قسم کا خدائی اسٹیج ہے۔ یہاں مختلف حالات پیدا کر کے خدا ہر ایک کو یہ موقع دیتا ہے کہ اس کے اندر جو کچھ ہے اس کو وہ علی الا علان ظاہر کر دے۔ جو شخص مجرمانہ ذہن لیے ہوئے ہے وہ اپنے موافق حالات پا کر جرم کرے اور خدا کے قانون کے مطابق سزا کا مستحق ہو۔ جو شخص اپنے اندر حق پرستی کا ذہن لیے ہوئے ہے وہ اپنے موافق حالات میں حق اور انصاف کا معاملہ کرے تاکہ وہ خدا کے یہاں انعام اور قدر افزائی کے لائق ٹھہرے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader