اندھیرا ختم ہوگا
Urdu book, p. 362
By Maulana Wahiduddin Khan
اندھیرا ختم ہوگا خدا کی دنیا میں انسان بظاہر ایک تضاد ہے۔ ایک ایسی دنیا جہاں سورج ہر روز ٹھیک اپنے وقت پر طلوع ہوتا ہے وہاں انسان کا حال یہ ہے کہ آج ایک بات کہتا ہے، اور کل وہ اس سے پھر جاتا ہے۔ جس دنیا میں سخت پتھروں کے اندر سے بھی پانی نکل پڑتا ہے وہاں ایک انسان دوسرے انسان کے ساتھ بدترین بے دردی کا ثبوت دیتا ہے۔ جس دنیا میں اس کا چاند تمام مخلوقات کے اوپر بلا امتیاز چمکتا ہے وہاں انسان ایک کے ساتھ کچھ سلوک کرتا ہے اور دوسرے کے ساتھ کچھ۔ جس دنیا کا ضمیر اپنے آپ کو پھولوں کی لطافت کی صورت میں ظاہر کرتا ہے وہاں انسان کانٹوں سے بھی زیادہ برے کردار کا مظاہرہ کرتا ہے۔ جس دنیا میں ہواؤں کے جھونکے ہر طرف بے غرض خادم کی طرح پھر رہے ہیں وہاں انسان اس طرح رہتا ہے جیسے ذاتی غرض پوری کرنے کے سوا اس کا اور کوئی مقصد ہی نہیں۔ جس دنیا میں ایک درخت دوسرے درخت کو دکھ نہیں دیتا وہاں ایک انسان دوسرے انسان کو ستاتا ہے، ایک انسان دوسرے انسان کو برباد کر کے خوشی کے قہقہے لگاتا ہے۔ یہ سب کچھ اس دنیا میں ہر روز ہو رہا ہے مگر خدا یہاں مداخلت نہیں کرتا، وہ اس تضاد کو ختم نہیں کرتا۔ مخلوقات کے آفاقی آئینہ میں خدا کتنا حسین معلوم ہوتا ہے مگر انسانی زندگی کے الم ناک گوشہ میں اس کا چہرہ کتنا مختلف ہے۔ خدا کے سامنے درندگی کے واقعات آتے ہیں مگر اس کے اندر کوئی تڑپ پیدا نہیں ہوتی۔ خدا انسانوں کو ذبح ہوتے ہوئے دیکھتا ہے مگر اسے اس کی کوئی پروا نہیں ہوتی۔ وہ کائنات کے سب سے زیادہ حساس باسیوں کے ساتھ وحشیانہ سلوک کا مشاہدہ کرتا ہے مگر اس کے خلاف اس کے اندر کوئی بے چینی نہیں ابھرتی۔ کیا خدا پتھر کی مورتی ہے، کیا وہ ایک انتہائی کامیاب اسٹیچو ہے جو سب کچھ دیکھتا ہے مگر اس کے بارے میں اپنے رد عمل کا اظہار نہیں کرتا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader