Urdu book · اللہ اکبر

اللہ اکبر

Urdu book, p. 363

By Maulana Wahiduddin Khan

اس سوال نے ہر زمانہ کے سوچنے والوں کو سب سے زیادہ پریشان کیا ہے۔ مگر یہ سوال صرف اس لیے پیدا ہوتا ہے کہ مخلوقات کے بارے میں ہم خالق کی حکمت کو ملحوظ نہیں رکھتے۔ خالق کی اسکیم میں دنیا دار الامتحان ہے مگر ہم اس دار الجزاکے روپ میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ جو کچھ کل کے دن پیش آنے والا ہے اس کو ہم چاہتے ہیں کہ آج ہی کے دن ہماری آنکھوں کے سامنے آجاۓ۔ جس طرح ہر روز رات کے اندھیرے کے بعد سورج کی روشنی پھیلتی ہے اسی طرح لازماً یہ بھی ہونے والا ہے کہ زندگی کا اندھیر ختم ہو۔ ظالم اور مظلوم ایک دوسرے سے الگ کیے جائیں۔ سرکش انسانوں کی گردنیں توڑی جائیں اور سچے انسانوں کو ان کی سچائی کا انعام دیا جائے ۔ یہ سب کچھ اپنی کامل ترین صورت میں ہوگا ، مگر وہ موت کے بعد ہوگا نہ کہ موت سے پہلے۔ تاریکی میں سفر لندن کے اخبار گار جین (13 مارچ 1983) کے ایک تین کالی مضمون کی سرخی ہے ۔ تاریکی میں ایک بہادرانہ سفر: A brave journey through the dark. یہ مضمون آرتھر کوئسلر (1983-1905) کے بارے میں ہے۔ آرتھر کوئسلر انگلستان کا ایک مشہور ادیب اور مفکر تھا۔ اس نے اور بیوی سنتھیا (Cynthia) نے مارچ 1983 میں اپنے لندن کے مکان میں خود کشی کر لی ۔ موت کے وقت آرتھر کوئسلر کی عمر 77 سال تھی۔ آرتھر کوئسلر بہت سی کتابوں کا مصنف تھا۔ اس کی ایک کتاب کا نام ہے ۔ دوپہر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page