اللہ اکبر
Urdu book, p. 364
By Maulana Wahiduddin Khan
میں تاریکی (Darkness at Noon)۔ یہ کتاب 32 زبانوں میں شائع ہوچکی ہے، جو کہ کمیونزم کے خلاف ہے۔ اس میں مصنف نے دکھایا ہے کہ نام نہاد عوامی نظام میں بھی کس طرح انسان کے اوپر انسان کا ظلم جاری رہتا ہے۔ ایک انسان دوسرے انسان کا استغلال کرتا ہے۔ آرتھر کوئسلر کو ذاتی طور پر وہ تمام دنیوی چیزیں حاصل تھیں جن کی ایک انسان تمنا کرتا ہے۔ وہ مشہور عالم تھا۔ اپنے پیچھے اس نے چار لاکھ پونڈ چھوڑے ہیں جن کے بارے میں اس نے وصیت کی کہ وہ ایک برطانی یونیورسٹی کو دے دئے جائیں جو اس رقم کو (Parapsychology) کی تحقیق میں لگائے۔ آرتھر کوئسلر نے کیوں خودکشی کرلی۔ اس کی وجہ اس کی مایوسی تھی۔ وہ دنیا میں برائیاں دیکھ کر بے حد پریشان تھا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ ان برائیوں کی کیا توجیہ کرے۔ 1974 میں اس کے مقالات کا ایک مجموعہ چھپا تھا جس میں اس نے کہا تھا تکنیکی ترقیوں اور اخلاقی سلوک کے درمیان بہت نمایاں قسم کی علامتی نابرابری پائی جاتی ہے: There is a striking, symptomatic disparity between the growth-curves of technological achievement on the one hand and of ethical behaviour on the other. اس کے بعد وہ جدید تہذیب سے اپنی مایوسی کا اظہار ان لفظوں میں کرتا ہے کہ ہم دور سیاروں کے گرد گھومنے والے خلائی جہازوں کی حرکت کو کنٹرول کر سکتے ہیں مگر شمالی آئیر لینڈ کے حالات کو کنٹرول کرنا ہمارے لیے ممکن نہیں: We can Control the motions of satellites, orbiting the distant planets, but can not control the situation in Northern Ireland. دونوں ایک سطح پر جانور اپنی نوع کو ہلاک نہیں کرتے۔ مگر انسان خود اپنے ہم جنسوں کو ہلاک کرتا ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے۔ اس سوال کی تحقیق کرتے ہوئے آرتھر کوئسلر اس نتیجہ پر پہنچا کہ اس کی وجہ یہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader