دونوں ایک سطح پر
Urdu book, p. 365
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے کہ انسانی دماغ کے مختلف حصوں میں ارتقا کے دوران عدم توازن (Imbalance) پیدا ہو گیا ہے۔ یہی عدم توازن مردم کشی کے بڑے بڑے واقعات کا اصل سبب ہے۔ تاہم یہ تحقیقات اس کو سکون نہ دے سکیں۔ وہ بالآخر اس رائے پر پہنچا کہ انسان کے لیے موجودہ حالات میں سب سے بہتر بات یہ ہے کہ وہ خودکشی کرلے۔ اس کا آخری فلسفہ یہ تھا کہ موت اس شخص کے لیے قابل استقبال اور قدرتی ریلیف ہو سکتی ہے جس کا واحد بدل غم اور مصیبت ہو۔ Death could be a welcome and nutural relief for someone whose only alternative was pain and suffering. The Guardian (London) March 13, 1983 آرتھر کو ٹسلر نے اپنے اس نظریہ پر خود عمل کرتے ہوئے اپنے آپ کو اس دنیا سے الگ کر لیا جو نہ اس کی مرضی کے مطابق تھی اور نہ وہ اس کو بدلنے کی قدرت رکھتا تھا۔ اس نے دیکھا کہ انسان ایک روشن فضا میں آنکھ کھولتا ہے۔ پھر وہ موت کی اندھیری دنیا میں داخل ہو جاتا ہے۔ اس نے دیکھا کہ ٹکنالوجی میں غیر معمولی ترقی کے باوجود انسان کی اخلاقی ترقی ممکن نہ ہوسکی۔ اس نے دیکھا کہ جانور تک اپنے ہم جنسوں کو ہلاک نہیں کرتے مگر انسان خود اپنے ہم جنسوں کو ہلاک کرنے کے منصوبے بناتا ہے۔ اس نے دیکھا کہ انسان اپنے سارے وسائل کو استعمال کر کے فلاحی نظام بناتا ہے مگر وہ نظام روشنی میں تاریکی کے ہم معنی ہو جاتا ہے۔ ان حالات نے اس کو مایوس کر دیا اور اس نے خودکشی کر لی۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آدمی کے سامنے آخرت کا تصور نہ ہو تو اس کی زندگی کتنی بے معنی ہو جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ موجود دنیا کی معنویت اسی وقت سمجھ میں آتی ہے جب کہ اس کو آخرت کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے۔ آخرت کے بغیر یہ دنیا اتنی بے معنی معلوم ہوتی ہے کہ ایک حساس مفکر یہی کر سکتا ہے کہ وہ خودکشی کر لے تا کہ اس کے خیال کے مطابق اس کو موجودہ نا قابل فہم دنیا سے چھٹی مل جائے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader