حادثات کیوں
Urdu book, p. 366
By Maulana Wahiduddin Khan
حادثات کیوں ٹرین جب پلیٹ فارم سے روانہ ہونے والی ہوتی ہے تو سیٹی دیتی ہے۔ اس سیٹی کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگ آگاہ ہو جائیں۔ اگر کچھ مسافر پلیٹ فارم پر ہوں تو وہ فوراً اپنے ڈبہ میں آ کر بیٹھ جائیں۔ تا ہم اس سیٹی کو دو زاوید سے دیکھا جا سکتا ہے۔ اگر آپ محض آواز کے معنی میں لے کر اس کو شور یا صوتی آلودگی (Noise pullution) کہیں تو وہ بالکل بے معنی معلوم ہوگی لیکن اگر آپ اس کو "الارم" کہیں تو وہی چیز آپ کی نظر میں بالکل درست اور بامعنی بن جائے گی۔ یہی معاملہ فطرت کے حادثات کا ہے۔ فطرت کے حادثات کو دو زاوید نگاہ سے دیکھا جا سکتا ہے۔ ہماری زمین پر قحط، زلزلے، طوفان آتے ہیں اور دوسری قسم کی آفتیں پیش آتی ہیں۔ بعض فلسفیوں نے ان کو مطلق طور پر دیکھا تو ان کو ان واقعات میں کوئی معنویت نظر نہیں آئی۔ ان کو انھوں نے مسئلہ فساد (Problem of evil) کا نام دے دیا۔ مگر پیغمبر ان واقعات کو ایک اور زاوید نگاہ سے دیکھتا ہے۔ یہ دوسرا زاوید نصیحت اور عبرت کا زاویہ ہے۔ اس اعتبار سے دیکھنے میں اس قسم کے تمام واقعات فطرت کا الارم بن جاتے ہیں۔ پیغمبر کی تشریح کے مطابق یہ واقعات بڑی قیامت سے پہلے چھوٹی قیامت ہیں۔ وہ انسان کو یاد دلاتے ہیں کہ وہ ایک بڑے سخت دن کو طرف بڑھ رہا ہے جب کہ خدا اپنی عظیم طاقتوں کے ساتھ ظاہر ہوگا۔ تمام انسان مجبور اور بے بس حالت میں اس کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔ اس دن آدمی بھاگنا چاہے گا مگر کوئی جگہ نہ ہوگی جہاں وہ بھاگ کر پناہ لے سکے۔ اس دن آدمی مدد کے لیے پکارے گا مگر وہاں کوئی نہ ہوگا جو اس کی مدد کے لیے دوڑے۔ یہ واقعات جو زیادہ بڑی شکل میں قیامت میں پیش آئیں گے وہی بہت چھوٹی شکل میں موجودہ دنیا میں پیش آتے ہیں۔ وہ قیامت سے پہلے قیامت کی یاد دہانی ہیں۔ کل کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader