Urdu book · اللہ اکبر

اللہ اکبر

Urdu book, p. 367

By Maulana Wahiduddin Khan

دن جو پردہ کامل طور پر پھاڑا جانے والا ہے اس کو آج ان حادثات کے ذریعہ جزئی طور پر پھاڑ دیا جاتا ہے۔ عقلمند انسان وہ ہے جو اس قسم کے واقعات کو فطرت کا الم سمجھنے نہ کہ فطرت کا بگاڑ۔ ان کو الم کی نظر سے دیکھا جائے تو تواضع اور اصلاح کا جذبہ ابھرے گا۔ اور اگر ان کو اس نظر سے دیکھا جائے کہ یہ نظام فطرت کی خرابی ہے تو اس سے ذہنی انتشار اور بغاوت کے جذبات ابھرتے ہیں۔ پہلا ذہن آدمی کو جنت کی طرف لے جاتا ہے اور دوسرا ذہن جہنم کی طرف۔ حقیقت سے بے خبری امتحان ہال میں ہر طالب علم کو یکساں طور پر داخل ہونے اور بیٹھنے کے مواقع دئے جاتے ہیں۔ مگر سند کی تقسیم کے وقت سند پانے کی خوشی ہر ایک کے حصہ میں نہیں آتی۔ یہ خوشی صرف اس طالب علم کا حصہ ہوتی ہے جو محنتی ہو۔ جس نے سال بھر کے وقت کو ضائع کرنے کے بجائے استعمال کیا ہو۔ ایسا طالب علم کامیابی کے ساتھ تمام سوالات کو حل کرتا ہے اور امتحان میں پاس ہو کر سند کا مستحق بنتا ہے۔ یہی حال وسیع تر معنوں میں زندگی کا بھی ہے۔ موجودہ دنیا بے شمار نعمتوں سے بھری ہوئی ہے۔ اور ہر آدمی اس سے متمتع ہو رہا ہے۔ مگر موجودہ دنیا میں ہر چیز جو آدمی کو مل رہی ہے وہ امتحان کی قیمت میں مل رہی ہے۔ اس کے برعکس، آخرت میں ہر چیز آدمی کو عمل کی قیمت میں ملے گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں ہر آدمی خدا کی نعمتوں میں سے کچھ اپنے لیے پال دیتا ہے۔ مگر آخرت میں صرف وہی لوگ خدا کی نعمتوں کو پائیں گے جو اپنے عمل سے اس کا استحقاق ثابت کریں۔ باقی تمام لوگ اس سے محروم کر کے چھوڑ دئے جائیں گے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page